حالیہ مضامین

بات سمجھنے کی ہے

بات سمجھنے کی ہے

تحریر: سعدیہ عندلیب

میرا جسم میری مرضی سے مراد بھی یہی ہے کہ میرے جسم پہ میری رضامندی کے خلاف کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی کسی قسم کے غیر اخلاقی عمل یا تشدد کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہ بات عورتوں سے ہٹ کر مردوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

مزید پڑھیں

آپ کے نزدیک ظلم کی تعریف کیا ہے؟

آپ کے نزدیک ظلم کی تعریف کیا ہے؟

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری

جو مزاحمت سماجی اور جبری روایتی بدلاؤ کے لئے نہ ہو تو وہ مزاحمت نہیں منافقت ہوا کرتی ہے۔ سرزمیں کوئی بھی ہو تشدد اور ناانصافی اپنے مفہوم کی سنگینی نہیں کھوتے، توآپ کی انسانی حقوق کی دلیل انسانی حقوق کی وقعت کیوں کر کھو دیتی ہے؟

مزید پڑھیں

جانوروں کی جبری کھیتی باڑی اور عید پر بھوکے غریب

جانوروں کی جبری کھیتی باڑی اور عید پر بھوکے غریب

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری

تشدد اور خون بہانے کی ترغیب تو وہیں سے ملنا شروع ہوجاتی ہے جب ہم انہماک سے جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے کے لئے چوباروں، چھتوں اور کھڑکیوں کی جانب لپکتے ہیں۔ ایک جانور کو اپنی جاں بھی اتنی پیاری ہے جتنی ہمیں۔

مزید پڑھیں

خواجہ سرا بھی انسان ہیں

خواجہ سرا بھی انسان ہیں

تحریر: انیلہ ارشد

انسان ہی سے جینے کا حق چھین کر کونسی انسانیت کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ کسی کو اس بات پر ہراساں کرنا کہ وہ ہم میں سے ہی نہیں‘ یہ اختیار نہ تو خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے اور نہ ہی معاشرتی قوانین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔

مزید پڑھیں

تحفظِ بنیادِ اسلام قانون کا پہلا مجرم

تحفظِ بنیادِ اسلام قانون کا پہلا مجرم

تحریر: حمزہ ارشد

شنید تھی کہ حکومت پیپر ڈی ٹیکٹرز منگوارہی ہے ۔ ایک دوست ملک کی فرم سے اربوں ڈالر کا سودا ہوچکا تھا ۔ اُسی ملک کے بنک نے آسان شرائط لیکن بھاری سود پر قرض بھی فراہم کردیا تھا ۔

مزید پڑھیں

ڈرنے کی کوئی وجہ دو !

ڈرنے کی کوئی وجہ دو !

تحریر: ثریا بلوچ

ہمارے یہاں تو بہت آسانی سے کسی کے کردار کو پراگندہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے دفتر میں میرے کردار کو کیا گیا۔ ہم تو ان سے بات بھی نہیں کرتی اور یہ پھر بھی ہمیں جینے نہیں دیتے۔

مزید پڑھیں