کیا فحش گوئی ہمارے ہاں نارمل ہے؟

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: بشرِ مومن Page(/authors/ramzan-aslam.md) کی تصویر

کیا ہم اس اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ ان رویوں کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ ہی پیدا نہیں کر سکتے۔ کیا ہم ذہنی پسماندگی کی اس نہج پہ ہیں کہ غلط کو غلط کہنے کی صلاحیت سے بیزار ہیں؟ کیا ہم اس سماجی بیماری سے نفرت کی جسارت نہیں کر سکتے؟ کیا ہم انتہائی ابنارمل ہیں کہ اس عمل کو 'نارمل' قرار دیے ہوئے جی رہے ہیں

پریشانی کا عالم ہے کہ ہمارے ہاں بعض ایسے رویے رائج ہو چکے ہیں جن پر برسوں سے ہمارے بزرگ اور علم کے تمام ذرائع ممانعت کرتے آئے ہیں۔ مگر تہذیب کی ستم ظریفی ہے کہ یہی ممنوعہ خصائل ہمارے ہاں نہ صرف موجود رہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی جگہ پختہ ہوتی رہی ہے اور اب جبکہ ترسیل اور ترویج کے ذرائع بڑے پیمانے پر میسر آنے لگے تو یہ خصلتیں بھی انتہائی سہولت سے پروان چڑھ رہی ہیں۔ ان بنیاد سے ہی غلط خصلتوں میں ایک گالم گلوچ یا فحش گوئی کی ہے جو اپنی ہیئت میں غلط ہونے کے ساتھ کیا ہمارے ہاں گالی دینے کا رواج شروع سے اسی شدت سے رائج ہے؟ کیا ہم ایک مجموعی معاشرے کی رو سے اس غیر اخلاقی رویے کی حمایت کر رہے ہیں؟ کیا ہم ایسا نظام تشکیل دے چکے جہاں مراسم میں محبت کا اظہار یا دوستی میں سچائی اور پختگی کا معیار ماں بہن کی تضحیک کروا کر ممکن ہے؟ کیا اختلاف رائے کی قدر لعن طعن سے ہی ہو سکتی ہے؟ کیا دوسرے فرقے سے یا مخالف سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والا ہر شخص طنز و تشنیع کا نشانہ بننے کا حقدار ہے؟ کیا کسی کو اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ اپنی رائے کا اظہار اپنی آزادی کے ساتھ کر سکے؟

ہمارے مرد حضرات اور بالخصوص نوجوان نسل نے گالم گلوچ کو تکیہ کلام بنا لیا ہے۔ گفتگو کا آغاز ہی ماں یا بہن کی ‘تعریف’ کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اسے یوں استعمال کیا جانے لگا ہے کہ جیسے یہ صدیوں سے ہماری تہذیب کا سب سے پوتر حصہ رہا ہو۔ پہلاسوال یہ ہے کہ یہ غلط اقدار رائج کیوں کر ہو سکیں؟ ہمارے ہاں بزرگوں کی اکثریت گالی دینا فرض سمجھتی ہے اور چونکہ وہ گھر کے بڑے ہوتے ہیں لہذا انہیں کوئی روکنے کی جسارت بھی نہیں کر سکتا اور وہ یوں بنیادی طور پر بچوں کی تربیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہوش سنبھالنے والا بچہ اپنے اردگرد کی عادات اپناتا ہے اور وہی ماحول اس کی ذہنی نشونما پر گہرے نقوش چھوڑتا ہے تو بدرجہا ممکن ہے کہ وہ طفل بھی پرورش کے ایام سے اسی ڈگر پر چل نکلے جو آگے جا کر اسے فحش گوئی میں وہ مرتبہ دیں جو اس کے آباؤ اجداد کے خواب و خیال سے بھی پرے ہو۔ تو کیا اس ذہنی پسماندگی کے ذمہ دار صرف گھر کے بزرگ ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ اس میں وہ معاشرہ جس میں اس طفل کی بودوباش ہوئی برابر کا قصور وار ہے۔ بچہ سکول جانے کے لئے گھر سے باہر قدم رکھتا ہے تو موبائل فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف صاحب اس بچہ کے پاس سے گزرتے ہوئے کسی کی ماں’ بہن یا بیٹی کو چند مغلظات سے تعبیر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سکول کی گاڑی میں سوار ہو گا تو جناب ڈرائیور نوازنے کے عمل میں ہیں۔ سبزی یا اشیائے خوردونوش لینے کی غرض سے بچے نے قریبی دکان کا رخ کیا تو کالج سے فارغ التحصیل ہونے والے چند نوجوان ایک دوسرے کو دوستی کے نام پر لغویات بکتے نظر آتے ہیں۔ یہی بچہ بڑا ہو کر گالی دینے کے عمل کی ترویج یا ترسیل نہیں کرے گا تو اور کیا کرے گا۔

نوجوان طبقہ تو ویسے ہی اس بیہودہ فعل کی مخالفت کومعیوب سمجھتا ہے کیونکہ جتنی بڑی گالی اتنی گہری یاری۔ کیا ہم نے اس کے تدارک کی کوشش کی ہے یا کبھی کسی دوست یا عزیز کو ٹوکا ہے کہ ایسے الفاظ استعمال نہ کرے۔ یقین کریں تدارک تو بہت دور ہیں اکثریت نے تخفیف کی ادنی کوشش کو بھی آزمانے کی بہت کم ہمت کی ہے اور کی بھی ہے تو فقط چند دنوں کے لئے جو یقینی طور پر بے سود ثابت رہتی ہے۔ ہمارا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر برائیوں کی ترسیل کو اس لئے نہیں روک سکتے کیوں کہ انہیں سرانجام دینے والے وہ افراد ہوتے ہیں جن کا لحاظ ہم پر لازم ہوتا ہے اور بجائے ہم ان کی اصلاح کرنے کے ‘پالیسی آف اپیزمنٹ’ اپناتے ہیں جو ایسے غلط رویوں کو مزید پختگی فراہم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ مجھے زندگی میں ایسے بے شمار احباب کی قربت نصیب ہوئی جو گالی نوازنے کے بعد دعاؤں اور نیک خواہشات سے نوازتے تھے مگر میں نے ایسے رویے کی نہ صرف بروقت مذمت کی بلکہ اس کے پوشیدہ خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ یہ جدوجہد آج بھی جاری ہے

کچھ لوگوں کو کہتے سنا کہ جب تک گالی نہ دیں روٹی ہضم نہیں ہوتی۔ واہ۔ کیا خوبصورت ،محاورہ اور کیسا لغو استعمال۔ حالانکہ اس کا ہرگز استعمال ایذا رسانی نہ ہے کیونکہ ان کی عادات میں یہ بات شامل ہو جاتی ہیں اور اس سے نجات کو ناممکن قرار دیا جاتا ہے۔ مگر کیا یہ واقعی سچ ہےَ؟ ہرگز نہیں۔ نجات اسے صورت ممکن ہے جب اس کو رد کرنے کی وجوہ پر عمل کیا جائے اور سمجھا جائے کہ اس انفرادی غلط رویے کی وجہ سے معاشرے کی روح کس شدت سے متاثر ہو رہی ہے۔ ہر انسان اپنے ضمیر کا پابند ہوتا ہے اور اگر اس سے آزاد ہو جائے تو کیا بگڑنا کہ حالات کی سمت ٹھیک نہیں۔ اجتماعی سطح پر کیا کسک کہ معاشرہ بدامنی اور بداخلاقی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔

آئے روز سوشل میڈیا پر عدم برداشت کی خوفناک صورت حال کا سامنا ہوتا ہے۔ کسی کی بات کو منطقی دلائل پر پرکھنا تو بہت دور اس کی رائے سننے کا حوصلہ موجود نہیں۔ فرقہ واریت ہو یا سیاسی اختلاف’ رائے مختلف ہو یا دلیل متضاد۔ سب کا جواب صرف ایک ہی طرز پر ہے اور وہ ہے گالم گلوچ سے جواب کا اظہار۔ عدم اعتماد کی فضا کی پرورش میں معاشرہ جرم وار ہے تو معاشرتی ارکان ہونے کی حیثیت سے ہم سب بھی قصور وار ہیں۔ خاندان کے وہ بزرگ جو بنا رکے چھوٹوں پر اپنا رعب اور بزرگی گالیوں سے جماتے’ محلے کی نکڑ پر کھڑے تعلیم یافتہ نوجوان جو دوستوں سے خلوص کا اظہار ماں بہن کی شان میں مغلظات بک کر کرتے ہیں اور ہر وہ فرد جو اس خصلت کو اپنائے ہوئے ہےْ مجموعی طور پر سب شریک جرم ہیں۔

طعن و تشنیع’ دشنام طرازی اور لچپن اسی معاشرے میں پرورش پاتے ہیں جہاں تقدیس کو بالائے طاق رکھ کر کسی کی ماں کو غلط القابات سے نوازا جائے کسی کی بہن یا بیٹی کو ہزلیات کی بنا پر پرکھا جائے یا کسی کی ولدیت پر شبہ ظاہر کیا جائے۔ کیا ہم اس اخلاقی پستی کا شکار ہیں کہ ان رویوں کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ ہی پیدا نہیں کر سکتے۔ کیا ہم ذہنی پسماندگی کی اس نہج پہ ہیں کہ غلط کو غلط کہنے کی صلاحیت سے بیزار ہیں؟ کیا ہم اس سماجی بیماری سے نفرت کی جسارت نہیں کر سکتےَ؟ کیا ہم انتہائی ابنارمل ہیں کہ اس عمل کو ‘نارمل’ قرار دیے ہوئے جی رہے ہیں۔

رویوں میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے وگرنہ معاشرے غلط سمت میں ہی متعین رہے گا۔

بشرِ مومن بشرِ مومن کی تصویر

پاسبان کے شریک بانی ہیں۔ سیاسیات اور قانون کا طالب علم ہونے کی حیثیت سے سیاسی و سماجی افکار کو سپردِ قرطاس کرنا ان پر لازم ہے۔ ادب سے دیرینہ لگاؤ کی مناسبت سے شاذونادر چوٹ بھی کر جاتے ہیں۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد