کورونا اور ہمارے رویے

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: بشرِ مومن بشرِ مومن کی تصویر

آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں

کورونا اور ہمارے رویے

لوحِ تاریخ پر بے شمار وباؤں کی پھوٹ’ ترسیل اور وسیع پیمانے پر تباہی انتہائی تفصیل کے ساتھ دستیاب ہے۔ کرۂ ارض انسانی نشونما کے ساتھ ساتھ لاتعداد انواع و اقسام کی مخلوقات کی پروان کا باعث بھی بنتا رہا ہے۔ چند جاندار ایسے بھی ہیں جن کے وجود کو ننگی آنکھ دیکھنے سے قاصر ہے اور ان سے انسان کی ملاقات کا نتیجہ الٹ نکلا۔ اسی طرح منفرد پہچان کے حامل کیمیائی مادوں نے کئی ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا جس سے بہت سے امراض نے وجود پایا۔ جوں جوں معاشرہ بتدریج عروج کی طرف مائل ہوا ویسے ہی انسانی اور معاشرتی بقاء وقتاً فوقتاً خطرات سے درپیش ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ امراض کی نوعیت’ ان کے اثر کا انداز اور شدت بدلتی رہی ہے مگر ایک ققدر مشترک رہی ہے اور وہ یہ کہ بنی نوع انسان کو پے در پے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ جلد یا بدیر اس سے نبردآزما ہونا بنی آدم کی جبلت میں رہا ہے۔ کئی ناکامیوں کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوئے تبھی تو آج زمین پر خاکی کا وجود قائم ہے۔ ان امراض پر غالب آنے کے پسِ پردہ وہ جامع محرکات تھے جو مثبت رویوں پر ایستادہ کیے گئے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ زمانہ ایسے رویوں کے پنپنے اور ترسیل کا ذمہ اٹھا سکتا ہے تو منطق سادہ سی ہے کہ ہمیں اپنے رویوں کو درست سمت دینی ہے

لاعلمی یا نیم فہمی کو سادگی سے منسوب کرنا صرف اور صرف جہالت کو پروان چڑھانا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب نیم حکیم ہوا کرتے تھے وہ ہر درد اور بیماری کا علاج کرنے میں اپنے عصر کے دانا تھے۔ وہ بیک وقت ایک فزیشن’ سرجن’ آرتھوپیڈک’ گائناکالوجسٹ’ نیوٹریشنسٹ’ فزیوتھراپسٹ اور سائیکالوجسٹ تھے۔ اکثر ان میں سے مختلف اوقات وہ امامت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے اور معلم بھی تھے۔ ستاروں کے علوم پر بحث سے لے کر پنچایت کے فیصلوں تک ہر قسم کی ذمہ داری ایک ہی شخص کے کندھوں پر مرکوز تھی۔ کہنے کو تو ہم نے ترقی کر لی ہے مگر یقین جانیے ابھی بھی ہمارے ہاں ‘ہرفن مولا’ افراد کا ہی زور ہے۔

کرونا کے ضمن میں ہمارے کمالات نے یہ بات عیاں کر دی ہے کہ ہمارے پاس ہر بیماری’ ہر مسئلے’ ہر مشکل’ ہر تھیورم اور ہر جھگڑے کا فیصلہ کن حل موجود ہے۔ وبا کے پھیلاؤ کے ابتدائی دنوں سے لے کر آج تک ہر ایک شخص تاجدارِ سخن ہے اور وہ کسی سائنسی تحقیق یا طبی دلیل کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے اپنی تھیوری پیش کر رہا ہے۔ چند مثالیں دینا ضروری ہیں۔ جب کورونا وائرس نے چین میں سر اُٹھایا (ویسے بھی وہاں انسان تو سر اُٹھا نہیں سکتا) تو قریباً ہر خاص و عام نے امریکہ کو موردالزام ٹھہرایا اور عین ممکن تھا کہ ہمالیہ سے اونچی اور شہد سے میٹھی دوستی کے زعم میں ہم ایک مرتبہ پھر ‘امریکہ کا جو یار ہے’ وہ ملک غدار ہے’ کی صدا ببانگ دہل لگاتے سڑکوں پہ نکلتے مگر تب تک یہ ‘غیر امتیازی سلوک کرنے والا پوشیدہ دشمن’ امریکہ کے دروازے پر دستک دینے لگا اور چند ہی دنوں میں پورے امریکی خطے کو لپیٹ میں لے لیا۔

ایک تھیوری یہ بھی پیش کی گئی کہ یہ یہود کی سازش ہے جو ان کو ‘گریٹر اسرائیل’ بنانے میں کامیاب کرے گی اور اس کے پس منظر میں یہ بات رکھی گئی کہ مسلمانوں کو مساجد سے دور کیا جارہا ہے۔مگر پھر یہ ‘دشمن’ اسرائیل میں بھی قدم گاڑنے میں کامیاب ہو گیا۔ پھر نیم حکیم’ نیم محقق اور سیاسی بصیرت کے حامل افراد نے تمام توپوں کا رخ اس بات پہ کر دیا کہ یہ ایک عالمی سازش ہے جس کا مقصد دنیا سے ‘بزرگوں’ کا خاتمہ ہے۔ ایک اور تجزیہ مدلل انداز میں پیش کیا گیا کہ یہ چند امراء (مثال کے طور پر بل گیٹس) کی سازش ہے جس کی بدولت بنی نوع انسان کو اپنے وش میں کرنے کا منصوبہ پنہاں ہے۔ لگتا یوں ہے کہ ہم نے ہالی وڈ کی سائنس فکشن کو خاصے سنجیدہ رویے کے ساتھ دیکھ لیا ہے۔ جب کہ یہ وبا پوری دنیا میں پنجے گاڑ چکی اور بلا امتیاز وار جاری ہیں تو ہمارے ہاں کسی نے اسے مغربی ممالک سے امداد کے حصول سے تعبیر کیا اور کسی نے یہودی لابی کی سازش کے طور پر۔ ویسے ایک بات طے ہے کہ جتنا چورن اس ملک میں یہودی سازش کے نام پر بکتا ہے اتنا شاید ہی ‘شان مصالحہ’ کے بینر تلے بکتا ہو۔

کم علمی سے بڑا فتنہ نہیں ہے اور ہم اس کا ادراک کرنے سے قاصر ہیں۔ تعلیمی اداروں کی حالت زار کا کیا رونا جب معاشرتی شعور اس کمال کو پہنچے کہ خطیب اسے مذاق گردانتے ہوئے مساجد میں چھپ کر صلوۃ ادا کرائے جبکہ سیاسی حریف اس کی آڑ میں بغض اور عناد کا خوب سیزن لگائیں۔ کبوتر کی طرز پر آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ہمارے معاشرتی رویوں کو مجموعی طور پر اصلاح کی ضرورت ہے۔ بجائے اس کے کہ ہر بات پہ اپنی رائے پیش کی جائے اور وہ بھی اس دلیل کے ساتھ کہ اس کے سوا سب جھوٹ ہے تو معاشرہ غلامی سے نہ نکلے گا۔ جہالت ہمارا دامن نہیں چھوڑے گی اور امراض کے ہاتھوں ہم موت کے منہ میں جاتے رہیں گے۔

کورونا کے بارے میں یہ آراء رکھنا کہ یہ فلاں دیسی مشروب اس کے خلاف ہمیں سینہ سپر کر دے گا یا فلاں پیر حضرت اس کا تعویذ کر دیں گیں۔ مزید یہ کہ خربوزے کھانے سے کورونا کا علاج ہو گا ایسی ہزلیات کو اپنے تک محدود رکھیں اور اقوام عالم میں ہمارا مقام مسخروں سے بڑھ کر نہ ہو سکے گا۔

ہمارے ہاں ہرفن مولا نہ ہونا درحقیقت پست علمی کی علامت تصور کیا جاتا ہے جبکہ اصل میں یہ بات بالکل متضاد ہے۔ کالم کی تنگ دامنی حائل نہ ہوتی تو بے شمار مضحکہ خیز واقعات بھی لکھتا جو میں نے گاؤں میں قیام کے دوران ذہن میں محفوظ کیے۔ بات سیدھی سی ہے کہ کورونا ایک حقیقت ہے جو ہمارے ذہنوں میں پیوست غلط معاشرتی رویوں کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہے۔ ہمیں اپنے رویوں کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے اور اگر یہ نہ ہو سکا تو آنے والے دور کے انسان کی بقاء یقینی طور پر خطرے میں ہے۔ ہم اس وبا کو اسی صورت میں شکست دے سکتے ہیں جب اجتماعی شعور اور آگہی سے ہم ایک منظم حکمت عملی اپنا سکیں اور صف اول کے جنگجوؤں کی

ہمت بندھا سکیں۔

براہ مہربانی اس وبا کو جاسوسی ناولوں یا ڈائجسٹ کی کہانیوں کے معیار پر مت تولیں۔ یہ حقیقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہے بس پٹی ہٹائیں اور خود کو بچائیں

#StayHomeStaySafe

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد