ڈرنے کی کوئی وجہ دو !

9 منٹ میں پڑھیں

تحریر: ثریا بلوچ Page(/authors/suriyya-baloch.md) کی تصویر

ہمارے یہاں تو بہت آسانی سے کسی کے کردار کو پراگندہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے دفتر میں میرے کردار کو کیا گیا۔ ہم تو ان سے بات بھی نہیں کرتی اور یہ پھر بھی ہمیں جینے نہیں دیتے۔

ڈرنے کی کوئی وجہ دو !

”مجھے نہیں بولنا چاہیے تھا شازیہ کے معاملے میں“ اُس نے گیلری میں یہاں سے وہاں ٹہلتے ہوئے سوچا۔

”یہ اُس کا اور اُس لڑکے کا معاملہ ہے، مجھے درمیان میں ٹانگ نہیں آڑانی چاہیے تھی“

”مگر شازیہ تمہاری اتنی پُرانی دوست ہے اگر تم اُس کا ساتھ نہیں دوگی تو کون دے گا؟“اُس کے اندر سے آواز آئی۔

”ہاں مگر پھر بھی وہ لڑکا میرے مُحلے کا ہے اگر اُس نے آکے ابّا کو بول دیا کہ آپ کی لڑکی میرے معاملے میں دخل کیوں دے رہی ہے تو ابّو نے تو مجھے گھر بٹھا دینا ہے اور کیا پتا رُخصت ہی کردے وہ تو ویسے ہی اس انتظار میں ہے کہ ہماری کوئی شکایت آئے تاکہ اُنہیں موقع مل جائے ہمیں رُخصت کرنے کا، اتنے سال دامن کو داغ دار ہونے سے بچایا ہے اور خُدا جانتا ہے کہ کیا کیا حیلے وسیلے کیے ہیں اس کیلئے، کتنا کچھ سہا ہے میں نے۔۔۔، لڑکوں نے حراساں کیا مگر کبھی آکے گھر نہیں بتایا کیونکہ پتا ہے کہ داغ ہمارے ہی دامن پر لگے گا اور سب سے اہم اور چبھتا سوال کہ اگر کچھ کیا ہی نہیں تو لڑکا تمہارے پیچھے کیسے پڑا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُف خُدایا یہ کیسا سوال ہے؟۔۔۔۔کون سمجھائے لوگوں کو کہ لڑکیوں کے دامن پر داغ لگانے کیلئے لوگوں کو کسی وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔اور پھر اُن کی یہ دلیل کہ دھواں اُٹھا ہے تو آگ تو لگی ہوگی کہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیسے؟ میں کیسے لوگوں کو سمجھاؤں گی کہ مجھے تو کسی آگ کا کوئی علم ہی نہیں، مجھے کیا علم کہ کسی کے دل میں میرے لئے عشق یا جذبے کی آگ بھڑک اُٹھی ہے؟۔۔اور آگ بھڑک اُٹھی بھی ہے تو اُس میں میرا کیا قصور سوائے اس کے میں وجود رکھتی ہوں تو کیا میرا وجود ہی میری غلطی ہے؟۔۔۔۔۔۔۔مگر اس غلطی کو کیسے سدھاروں؟۔۔۔۔۔۔اپنے سینے کو تو میں نے دوپٹے سے ڈھانپ دیا مگر خود کو کیسے ڈھانپوں؟۔۔۔۔۔کیا عبایا اُوڑھ لوں؟۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ تو میں سالوں سے اُوڑھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔تو کیا کفن اُوڑھ لوں؟۔۔۔۔۔۔۔ایک کفن ہی ہے جو میرے وجود کو چھپانے کی طاقت رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔“

”کیا ہوگیا؟ پاگل تو نہیں ہوگئی؟ کیسی باتیں کررہی ہو؟ ٹھنڈے دماغ سے دوبارہ سے پورے معاملے کا جائزہ لو“اُس کے اندر سے پھر سے آواز آئی۔ ٹہلتے ہوئے اب اُسے تقریباََ ایک گھنٹہ ہوگیا تھا اور گھڑی اب رات کے دو بجا رہی تھی۔

”اُس لڑکے کا نام عادل ہے وہ تمہارے ہی مُحلے میں تمہارے گھر کے سامنے رہتا ہے اور وہ شروع سے ہی گلی کے آوارہ اور اُوباش لوگوں میں شامل ہے، اُس کے گھروالے بھی اُسی طرح جھگڑالو ہیں اور وہی لڑکا اچانک سے تمہارے دفتر میں ایک چپڑاسی کی نوکری کرنے لگ جاتا ہے وہ دفتر جہاں تم آٹھ سال سے کام کررہی ہواور وہی دفتر جہاں تمہاری شازیہ سے دوستی ہوئی تھی وہ دوستی جو آٹھ سال پرانی ہے اور اتفاق سے عادل اُسی کا چپڑاسی بن جاتا ہے اور چونکہ اُسے پتا تھا کہ تم اسی دفتر میں کام کرتی ہو اسلئے اُس نے تمہارے خلاف شازیہ کو عجیب عجیب باتیں کہنا شروع کردی کہ تمہارے افئیرز ہے اور پتا نہیں کیا کیا اور اُس نے ایسا کیوں کیا؟ یہ تو خُدا ہی جانتا ہے اور تمہیں یہ سب باتیں تب پتا چلتی ہے جب شازیہ تمہیں بتاتی ہے ورنہ تم تو دنیا سے اتنی بیگانی ہوکہ تمہیں خود اپنے پڑوسیوں کا نہیں پتا اور پھر وہی عادل شازیہ کو حراساں کرنے لگتا ہے کیوں؟۔۔۔۔۔۔کیونکہ اُسے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ ایک لڑکی اُسے حُکم دے کہ اب تم کُرسی صاف کردو اور اب ٹیبل صاف کردو۔۔۔۔۔اب چونکہ شازیہ تمہاری بہت اچھی دوست ہے اور تم اُسے پریشان نہیں دیکھ سکتی اور تم خود ایک فیمنسٹ ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہو تو تم یہ فیصلہ کرتی ہو کہ تم اپنی دوست کا ساتھ دوگی اور وہی ساتھ دینے کیلئے تم اُس کی شکایت کرنے شازیہ کے ساتھ انچارج کے پاس جاتی ہو مگر اب تمہیں ڈر لگ رہا ہے کہ تمہیں شازیہ کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کیوں؟۔۔۔۔۔۔کیونکہ اب تم بھی اس معاملے میں ایک طرح سے شامل ہوگئی ہو اور ممکن ہے کہ وہ لڑکا کل کو تمہارے گھر پر آجائے یا پھر راستے میں کہیں تمہیں دبوچ لے یا پھر تم پر تیزاب پھینک دے یا تمہاری آبرو۔۔۔۔۔

”اللہ نہ کرے ا للہ نہ کرے “وہ زیر لب بار بار کہنے لگی یوں جیسے خود کو دلاسہ دے رہی ہو۔

”اُف خُدایا عالیہ۔۔۔۔ لگام دو اپنی سوچ کے گھوڑے کو۔۔۔۔۔۔۔ تم کہاں سے کہاں پہنچ رہی ہو؟“ اُس کے اندر سے پھر سے آواز آئی۔

”اور خدانخواستہ اگر اُس نے میرے بھائی کو کچھ کردیا تو وہ تو میرا اکلوتا بھائی ہےاور اماں ابّا تو پھر میری جان لے لیں گے کہ میری وجہ سے اُن کے اکلوتے بیٹے کو کچھ ہوا“

”تمہارے بھائی کے ساتھ بس حادثہ بھی ہوسکتا ہے کیا تب بھی تمہارے اَمی ابّو تمہیں ہی قصور وار ٹھہرائے گے؟“

”ہاں نا کہے گے لڑتی رہتی تھی اپنے اکلوتے بھائی سے اُس کے دودھ کے گلاس پر بھی اس کی نظر تھی یہاں تک کہ اُس کی پلیٹ میں موجود بوٹی پر بھی، اب چلا گیا تو سکون مل گیا“

”اُف اور اگر تم کسی حادثے کا شکار ہوگئی تو؟“

”میری خیرہے پیچھے پانچ اور ہیں نا اماں ابّا کا دل بہلانے کیلئے“

”حد ہے عالیہ حد ہے اتنا احساس کمتری تم میں کب پیدا ہوگیا؟“ اُس کے اندر سے پھر عقل نے آواز دی۔

”میں کیا کروں اب؟۔۔۔۔کیا کروں؟۔۔۔۔۔ایسا کرتی ہوں کل سے آفس ہی نہیں جاتی۔۔۔۔استعفیٰ دے دیتی ہوں“

”پھر بے وقوفوں والی بات۔۔۔جس حساب سے تم ڈر رہی ہو اُس حساب سے تو شازیہ نے بڑی بہادری کا کام کیا ہے کہ اُس نے جاکے اُس شخص کے خلاف شکایت کردی ہے انچارج کو“

”اور کتنے دنوں بعد کی ہے؟ چھ مہینوں بعد؟۔۔۔۔چھ مہینے کیوں برداشت کرتی رہی وہ؟۔۔۔۔۔۔وہ بھی تو ڈر ی ہوگی نا“

”ہاں مگر ڈرنا کیوں؟“

”کیونکہ میری عزت کی قیمت میری جان سے زیادہ ہے“

”تو ابھی جب وہ شخص تمہیں تنگ کررہا ہے تمہارے خلاف جھوٹی باتیں پھیلا رہا ہے اور شازیہ پر جھوٹی تہمتیں لگا رہا ہے تو کیا اب تم لوگوں کی عزت پہ آنچ نہیں آرہی؟“

”میں کہاں پھنس گئی؟۔۔۔۔۔مجھے شازیہ کا ساتھ دینا ہی نہیں چاہیے تھا“

”تم ایک مشکل میں پھنسی ہو جوکہ کسی بھی شخص پر آسکتی ہے اور مشکل میں کوئی جان بوجھ کر تو نہیں پھنستا یہ توزندگی کا ایک حصہ ہے اور تم اگر باحیثیت لڑکی شازیہ کا ساتھ نہیں دے سکتی تو کم سے کم باحیثیت انسان ہی ساتھ دے دو“

”لیکن یہی مشکل کیوں؟۔۔۔اُف خُدایا میں تو پاگل ہوجاؤں گی سوچ سوچ کے“

”تو اتنا مت سوچو“

”مجھ سے برداشت نہیں ہورہا اب۔۔۔۔۔میرا سر پھٹ رہا ہے۔۔۔کوئی اور مشکل پڑ جاتی میری ٹانگ ٹو ٹ جاتی، میرا سر پھٹ جاتا مگر یہ مشکل۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا ہے کسی نے مجھے چلتی کشتی سے بیچ سمندر طوفان میں پھینک دیا ہے اور اب میں غوطے کھارہی ہوں۔۔۔چلارہی ہوں۔۔۔۔۔آوازیں دے رہی ہوں کہ کوئی مجھے بچالو مگر کوئی نہیں آرہا“وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اُسے اپنے ابّا کے کھانسنے کی آواز آئی۔

”ابّا نہیں چھوڑینگے مجھے۔۔۔میرے سارے خواب۔۔سب کے سب ادھورے رہ جائے گے اگر اُس عادل نے ایک بار میرے گھر پر دستک دے دی۔۔کوئی میرا بھروسہ نہیں کرے گا۔۔سب یہی کہے گے تم نے ہی کچھ کیا ہے تبھی تو بات یہاں تک پہنچی ہے“

”اگر راستے میں کوئی شخص تم پر جملے کسے اور پھر جملے کستا ہوا تمہارا پیچھا کرتا ہوا تمہارے گھر تک آپہنچے تو کیا تب بھی تمہاری ہی کوئی غلطی ہوگی؟“

”ہاں ہوگی میری ہی کوئی غلطی ہوگی کہ میں گھر سے باہر ہی کیوں نکلی؟“

”اور فرض کرو اگر کسی دن تم گھر کی کھڑکی سے باہر نہار رہی ہو اور کوئی لڑکا پھر سے تم پر کچھ جملے کسے اور پھر دوسرے دن تمہارے ہی گھر پر دستک دے دے کیا تب بھی تمہاری ہی غلطی ہوگی؟“

”ہاں میری ہی ہوگی کہ میں کھڑکی کے پاس گئی ہی کیوں؟“

”تمہارے ڈرنے کی مجھے کوئی وجہ ہی نہیں سمجھ آرہی“ اُس کے اندر سے پھر آواز آئی۔

”کیونکہ یہ عقل کے بس کی بات ہے ہی نہیں۔۔۔۔۔مجھے اب تباہ اور برباد ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔۔میرا کردار، میری زندگی سب ختم ہوگئی ہے اب اور وہ بھی میری ہی ایک غلطی کی وجہ سے“وہ یہ کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف گئی جہاں آج اتفاق سے وہ اکیلی ہی سوئی تھی اُس کی بہنیں دوسرے کمرے میں سورہی تھی۔

”کونسی غلطی؟۔۔۔کہ تم نے شازیہ کا ساتھ کیوں دیا؟“

”نہیں کہ میں نے ایک لڑکے کے خلاف کسی لڑکی کا ساتھ دیا“ اُس نے کمرے میں چلتا ہوا پنکھا بند کیا اور پھر چارپائی کی طرف بڑھنے لگی۔

”دیکھو عالیہ ایسا مت کرو ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے“

”اور اس مسئلے کا حل وہ زندگی ہے جس میں، میں نہیں جی سکتی“ اُس نے اپنا دوپٹہ چارپائی سے اُٹھایا اور پاس پڑی کُرسی کو گھسیٹنے لگی۔

”تم بس ڈر رہی ہو اور کچھ نہیں اور تم جیسا سوچ رہی ہو ایسا تو کچھ ہوا بھی نہیں یہ سب تمہارا وہم ہے“

”اگر وہم ہے تو جاتا کیوں نہیں؟۔۔کوئی وجہ ہے تمہارے پاس؟“ اب کہ اُس نے دوپٹے کو اپنے گلے میں ڈالا اور اُسی وقت اُسے ساتھ والے کمرے سے کسی کے چلنے کی آواز آئی اور وہ رُک گئی۔۔کچھ دیر بعد جب اُسے اطمینان ہوگیا کہ اب کوئی اُس کے اور اُس کے فیصلے کے درمیان نہیں آسکتا تو اُس نے دوپٹے کو اپنی گردن کے گرد مزید کس لیا۔

”تم بے وجہ ہی ڈر رہی ہو“

”بے وجہ کوئی اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرتا“

”یہ صرف ڈر ہے اور کچھ نہیں“

”یہ ڈر اتنا طاقتور کیوں ہے؟۔۔۔۔۔۔کیوں ہے اتنا طاقتور؟ بتاؤ کیوں ہے؟ کوئی وجہ دو مجھے؟“

ِخاموشی۔۔۔۔۔۔خاموشی۔۔۔۔۔۔خاموشی۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم بھی نہ کیسے خوف اور وساوس لئے روز مرتے ہیں۔ ایسا جینا بھی جینا نہیں جینا حرام ہوا۔ حرام ہے تو کیا، لوگ جیتے نہیں؟ حرام کما سکتے ہیں تو کسی کا جینا حرام کیوں نہیں کر سکتے؟ کبھی کبھار بھائیوں کو دیکھ کر رشک کر اٹھتی ہوں کہ کیسا بے باک جینا ہے۔ ذرا کوئی آواز بھی ان پر اونچی کر لے تو انکھیں نوچ آتے ہیں اس کی اور ہم بہنوں کو کوئی نوچ لے ہم آواز ہی دبا لیتی ہیں۔ اندر ہی جیتی مرتی ہیں اور روز دنیا میں زندگی کےہونے کا ناٹک کرتی ہیں۔ یہ دکھ، ڈر بھی بہت ظالم معرکے ہیں، رحم نہیں کرتے۔ آپ کی جان لیتے ہیں یا ہم خود ان کی جان نکال باہر کرتے ہیں۔

ہمارے یہاں تو بہت آسانی سے کسی کے کردار کو پراگندہ کیا جاسکتا ہے۔ جیسے دفتر میں میرے کردار کو کیا گیا۔ ہم تو ان سے بات بھی نہیں کرتی اور یہ پھر بھی ہمیں جینے نہیں دیتے۔

مگر لوگوں کا کیا ہے، ہم خود کو ہمیشہ دوسروں کی نگاہوں سے ہی دیکھتے دیکھتے مر جاتے ہیں۔ شائد باتیں اتنی بڑی ہوتی نہیں اپنی حقیقت میں مگر ہم سوچوں کے در اس قدر بڑے کرتی ہیں کہ اس پار دیکھا نہیں جاتا۔ اس میں ہمارے ہونے کا کوئی قصور نہیں جیسے رات گئے ٹی وی پروگراموں میں دکھایا جاتا ہے، یہ تو وہ خوف ہیں جو ہم پیدا بھی نہیں ہوتی اور ماں کے پیٹ میں لوگوں کی باتین سن لیتی ہیں ہماری پیدائش کی خبروں پر خود مائیں اور لوگ کرتے ہیں۔ کوئی تعزیت سی کرتا ہے تو کوئی دنیا جہاں کے خوف تحفے میں دیتے ہیں۔

ثریا بلوچ ثریا بلوچ کی تصویر

جامعہ کراچی میں ایم فل فلاسفی کی طالبہ ہیں۔ عورتوں کے حقوق اور سماج کے رویوں پر ادبی طرز سے لکھنا ان کا خاصا ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد