چائے

4 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

یہ جو چائے ہے نا, حلق میں نہیں دل میں اترتی ہے

چائے

یہ جو چائے ہے نا, حلق میں نہیں دل میں اترتی ہے. دل کے ویراں افسردہ رستوں شریانوں میں ناچتی پھرتی اٹکھیلیاں کرتی, سکوں اور راحت کے گیت گنگناتی, نسوں کو خواب غفلت سے بیدار کرتی, دامن دل کے در سے دماغ کے باغیچوں کو محبت کا احساس دلاتی ہے, جس کو کوئی احساس محبت نہ دلائے اسکو یہ چائے ہی تو گلے سے لگاتی ہے کسی رحم دل عورت کی مانند جس کی مامتا ہر محروم انسیت طفل کو اپنی پیار بھری نرم وگرم آغوش دیا کرتی ہے۔

چائے مسیحا ہے, زخموں پر مرہم رکھنے والی دوا, صحرا میں بھٹکے ہوئے پیاسے مسافر کو پانی سے بھرا مشکیزہ میسر آجائے جیسے, جس سے تلخی کی لگائی ہوئی آگ بجھا دی جائے, پیاسے کو آب مل جائے. اندھیری کوٹھری میں جیسے روشنی کی کوئی کرن, جنگلوں میں دور سے ٹمٹماتی ہوئی قریں امید ہے یہ چائے.

محبوبہ کے گال سے نرم اور عشقیہ اشعار سے شیریں ہوتی ہے یہ چائے. دل کی پگڈنڈیوں کو اپنے نازک شربتی روپ کے خمار میں قید کرتی کسی مسیحا کی طرح درد کے انگاروں میں اٹکی رگوں میں کھولتے لہو کو خلوص سے مدھم کرتی ہے. چائے مشروب نہیں چاہت ہے, دل کشی ہے, حب ہے, دلاسہ ہے, سہارا ہے, مسکان ہے, تھپکی ہے, حرمت ہے, تقدس ہے. بچھڑوں کی تنہائیوں میں ساتھی ہے. جب دل الم کی چادریں اوڑھے سردی میں ٹھٹھرتا ہو, آنکھیں بہتے بہتے کسی بنجر دریا کی قحط زدہ تصویر بنتی ہوں, جب جلتے تپتے ریگستان چل کر انساں تلک آجائیں تب اس ہونہار و دلدادہ مشروب کے فقط چند گھونٹ حلق سے دل میں ایسے اترتے ہیں جیسے بارشوں کا موسم آگیا ہو, زمیں پر سارے گل کھل چکے ہوں, کلیاں چٹخ چٹخ کر سریلے نغمے گا رہی ہوں, رات بھر پتوں پر شبنم گرتی رہی ہو جیسے. طائران جفا کوکتے ہوں، خوابوں کا وہ گماں ہے چائے۔

دیدہ زیب, گندمی و سانولی رنگت والی سیاہ چادر سے چہرہ ڈھکے حسیں ایسی کہ ایسا کوئی دوسرا شہر بھر میں نہ ہو, دہکتے انگاروں میں پتیلی اور کیتلی کے اندر جوش مارتی یہ قدردان انساں آنکھوں کا قرار ہے، دل کا سکوں ہے، روح کی غذا ہے۔ دل کو چند ہی گھونٹوں میں شاد کرتی ہے، پیالی کی سرحدوں پر ڈولتے پتی کے باریک باریک معصوم ذرے آسماں پر تاروں کی طرح مٹکتے ہیں۔ یاسیت کے پر چھاووں میں پتی کے یہ گشت کرتے ذرے ہی ہاتھ تھام لیتے ہیں، ہچکولے لیتی سانس کی تھکی ڈوریوں کو سہارا بھی تو یہی جوش کھائی چائے دیتی ہے۔ کھڑکی کی اوٹ سے کمر لگائے گم سم انسان کا بارش میں ساتھ دیتی دوستی کی چاشنی بھی یہی عطا کرتی ہے. کیتلی سے جا بجا بغاوت جہاں سے سر اٹھاتا دھواں جو اعلان کرتا ہے کہ وہ تیار ہے، سینے پر آتی ہر ضرب ندامت کا گھاؤ بھی اپنے سینے پر اچک لیتی ہے.

جو تقدس سے اس کے حضور اپنے غموں کی چادر اتار پھینکتے ہیں پتیلی کی دیواروں سے ٹکراتی حرارت کی لہریں باور کرا کر دم لیتی ہیں کہ اس بے گانگی کی ساتھی صرف وہی ہے ، کچھ وقت کے لئے سہی مگر مراحمت میسر آجاتی ہے۔ چائے حلق میں نہیں جان میں اترتی ہے، گمشدگین حصار الم حیات کی کوتاہیوں کے پاتال سے بھی کھینچ لاتی ہے۔ یہ فقط مشروب نہیں، بے قرار لمحوں میں بستر کا سا آرام ہے، دنیا بھر کے خلجان ایک طرف سمیٹ کر آنے والی نیند کی وادیوں سی آہٹ ہو جییسے۔

ننھی سے پیالی ہو یا فرغ پیالہ، محبت کے خطوط سی چائے ہر رخ میں ڈھل جاتی ہے ۔ کسی کے لطف کا زاویہ ہے تو غریب کی بھوک کا زینہ۔ کوئی ادب سے چسکی بھرتا ہے تو کوئی پیاس دل بجھاون واسطے غٹاغٹ نوش کرتا ہے۔ چائے دل میں اترنے کے لئے ہو، موسموں کی نزاکت کی قید کی پابند نہیں ہوتی ۔ ہمیں تو بس غرض ہے اس کے بلاوں سے، پرچھاووں سے۔ چائے کی پہلی ہی چسکی سفر ہے گمشدگی سے بازیابی تک کا. یہ اک احساس ہے, خلوص ہے, تمکنت ہے, مان ہے, محاز ہے. مصائب میں جرات ہے, نشان شجاعت ہے۔ تخیل کو رنگنے والی فنکار ہے۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد