جدا راستوں کا معاملہ کچھ اور ہے

4 منٹ میں پڑھیں

تحریر: سعدیہ عندلیب Page(/authors/sadia-andlib.md) کی تصویر

سوال تو یہ ہے کہ ایسے کونسے محرکات ہیں جن کے باعث معاشرے میں کمزور طبقات کے حوالے سے منفی رائے نے جنم لینا شروع کیا ہے۔ مانگنے والے کو ڈھونگی قرار دیا جاتا ہے تو کہیں گداگر بچوں کو مافیا کے کارندے

جدا راستوں کا معاملہ کچھ اور ہے

“یہ رکشہ والا کتنا شوخا ہو رہا تھا ناں، میں اسکو سنانے والی تھی پھر میں نے اپنے پھسلتے ہوۓ لفظوں کو تھام لیا کہ ایک پل کی بات ہے درگز کردیتی ہوں "

میری بڑی بہن بولی، وہ اکثر غصے میں تیزی برت دیتی ہے اور دل کی اتنی ہی صاف۔ البتہ ہم دونوں اگلے رکشہ پہ سوار ہوگئے، ہم کچھ جلدی میں تھے۔ کچھ سازوسامان کی خریداری اور سردیوں کی شام کی بڑھتی ہوئی کالی لو نے ہمیں اپنے دباؤ میں لے رکھا تھا۔ ہر جگہ رش، ہر انچ کے فاصلے پر مسافروں کے لیے کھلے اور بند رکشے موجود تھے۔ لاہور میں رش اتنا رہتا ہے کہ تل دھرنے کی جگہ تک نہیں بچتی۔ اچانک سے اسی رش کی کھلبلی میں ہمیں ایک عجیب آواز سنائی دی۔ ہم دونوں ہماتن گوش ہو کر سننے لگیں۔ وہ ایک بند رکشہ والا ادھیڑ عمر کا آدمی تھا، بال کچھ بگڑے ہوئے، آنکھیں زرد اور انکے نیچے سیاہ حلقے، سفید رنگ کی نازک قمیض شلوار زیب تن کیے ہوئے تھا۔

بڑے ہی برے انداز سے ناشائستہ الفاظ کا انتخاب کر رہا تھا۔ ہم دونوں اسکو بغیر دیکھے اس کی باتیں سن رہے تھے اور ایک دوسرے کی آنکھوں سے مجموعی تعامل کر رہے تھے۔ مزید سننے سے پتہ چلا کہ وہ اپنی زوجہ سے ہم کلام ہے ۔ وہ کچھ اسطرح سے بات کر رہا تھا:

“مردی اے تے مر جاوے، میں کتھوں لیاواں اینے پیسے، اُٹھدا اے جنازہ تے اُٹھ جاوے، میرا وی نال ای اُٹھ جاوے ۔ست سو روپے سی میرے کول کل رات نوں او وی لگے گئے، میں کتھے جاواں میری جیب اچ بس ترئی روپے نے ۔مردی اے تے مر جاوے، مردی اے تے مر جاوے " ۔

ہم نے سوچا اس کو کچھ رقم دیتے ہیں خریداری تو ہوتی رہے گی چنانچہ جیسے ہی اسکی کال مکمل ہوئی ہم نے اشارہ کر کے اسکو قریب بلا کر کچھ رقم دینا چاہی مگر وہ انکار کرتے ہوئے اپنے رکشہ کی طرف مڑ گیا۔ اردگرد موجود رکشہ والے جمع ہو گئے، ہم نے منظر کو بھانپ لیا اور اسکو ہم نے ہمیں ڈراپ کرنے کی پیشکش کی تو ہم بجلی کی سی تیزی سے رکشہ کے دروازے کھولتے ہوئے بیٹھ گئیں۔ وہ آدمی بھی جانچ چکا تھا کہ یہ میری کال سن چکی ہیں۔ شرمندگی، دکھ اور پریشانی کے ملے جلے آنسو اسکی آنکھوں سے زاروقطار بہنے لگے۔ ہم نے کچھ تسلی کے کلمات ادا کیے مگر وہ روے جارہا تھا، اس نے اپنی ساری داستان روتی ہوئی زرد آنکھوں اور بھیگے ہونٹوں کے سہارے سنا دی۔

“باجی اٹھ سال دی بچی میری، گردن توڑ بخار انوں ،بائی سو دا ٹیکا باجی، بائی سو دا ۔۔” ( باجی آٹھ سال کی بیٹی ہے میری، گردن توڑ بخار ہے اور بائیس سو کا ٹیکا درکار ہے)

اپنی پرانی قمیض سے تیس روپے نکالتے ہوئے وہ روتا ہوا کچھ بول نہ پایا۔ ہم نے کچھ اور رقم اس کو دی وہ لیتے ہوئے ہچکچایا مگر مجبور تھا مرتا کیا نہ کرتا۔ شرمندگی سے اپنا ہاتھ ہینڈل پہ مارتا پھر درد کے تحت ہاتھ ملتا۔ دکھ بھری کہانی سن کر ایک بوڑھے باپ کی میں خود کے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکی البتہ میری بہن اسکے دلاسے کے لئے “پریشان نہ ہوں “جیسے کلمات ادا کرتی رہی۔ہم نے مزید مدد کرنے کے لیے رابطہ نمبر اور تمام قسم کی معلومات طلب کی۔ وہ شکریہ ادا کرتا رہا ہم راستے میں اتر گئے۔ روتا ہوا چلا تھا روتا ہوا واپس گیا۔ ہم گھر پہنچے، نماز کی ادائیگی کے بعد اسکی بیٹی کے لیے دعا مانگی۔ ایک قریبی طبیب سے رجوع کیا اور مدد کی درخواست کی۔ ڈاکٹر نے کال ملائی اور اطلاع دی کہ اسکی بیٹی انتقال کر گئی ہے ۔ ہائے وہ باپ، وہ آنسو ۔۔۔ دکھ تو جو ہوا سو ہوا دل کو تسلی بھی ملی کہ اتنے لوگوں میں خدا تعالیٰ کی برتر ذات نے ہم بہنوں کا انتخاب کیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ غریب کو دے نہیں سکتے مسئلہ یہ ہے کہ آپ امیر کو امارات سے مطمئن نہیں کر پاتے۔

سوال تو یہ ہے کہ ایسے کونسے محرکات ہیں جن کے باعث معاشرے میں کمزور طبقات کے حوالے سے منفی رائے نے جنم لینا شروع کیا ہے۔ مانگنے والے کو ڈھونگی قرار دیا جاتا ہے تو کہیں گداگر بچوں کو مافیا کے کارندے۔

سرکار نے ایسے فلاحی اقدام اٹھائے ہیں نہ ہی معاشرے نے کہ کسی گدادگر بچے کو کسی مافیا کے ہتھے چڑھنے سے بچایا نہ ہی ایسی کوششیں کی گئی کہ کسی رکشے والے کو اجنبیوں کے آگے آہ و زاری کرنا پڑے۔ غریب غریب سے غریب تر ہوا ہے اور امیر کی امارت ہے تو بڑھتی گئی۔ بے حسی اور حرص کے طفیل جمع کئے گئے مال کو خدائی عنایت قرار دیتے ہوئے غریب سے تمام وسائل نوچ کر حلال اور محنت کی تلقین ہی کرتے نظر آتے ہیں۔

نہ تیرا خدا کوئی اور ہے نہ میرا خدا کوئی اور ہے

سعدیہ عندلیب سعدیہ عندلیب کی تصویر

فارمن کرسچیئن کالج یونیورسٹی لاہور میں بی ایس آنرز کی طالبہ ہیں۔ سماجی’ ثقافتی’ انفرادی اور معاشرتی عنوانات پر تخلیقی و تنقیدی انداز سے لکھنے پر مہارت رکھتی ہیں۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ان کے پسندیدہ لکھاری ہیں۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد