موقع پانے والے مسیحا

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

خواتین طبیب اور تیمار داروں سے علاج کرانا چاہیئے؟ بالکل مگر ساتھ ساتھ حسرت لئے ساتھی مرد طبیبوں اور نرسوں کے خواتین کے خلاف رویوں کو سدھارنے کی اتنی ہی اشد ضرورت ہے جس سے خواتین مسیحا محفوظ رہ سکیں اور خواتین مریضائیں۔

موقع پانے والے مسیحا

ایک خاتون اسپتال یا کلینک میں بچہ جن رہی ہو اور کوئی اجنبی اس کی نہایت فطرتی اور تکلیف دہ مرحلے میں خفیہ طور پر مجرمانہ فلم بندی کرنے میں مصروف ہو تاکہ کل کو کوئی بھی خاتون کو اس کے نہایت ذاتی اور فطرتی عمل کی عکس بندی سے شرمسار کر کے ہراساں کرے اور اپنے مقاصد حاصل کرسکے۔جہاں تک سوال دوران پیدائش مرحلے کو لے کر ہراساں کرنے کا ہے جو خالصتاً شرم سے ہی منسوب ہے تو بتاتی چلوں کہ دنیا کا ہر انسان بشمول عورتوں کی زچگی میں فلم بندیاں کرنے والے اور عزت اور تقدس کو عورت کی زانوں میں رکھ کر نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے تمام لوگ عورت کی زانوں سے ہی دنیا میں تشریف لائے ہیں اور وہ بھی اپنی ماں کی۔ وہ ہم جماعت، ساتھی، ٹی وی پر “تیرے جسم میں ہے کیا آہ تھو” کرنے والوں سمیت ہر کوئی عورت کے جسم سے جنا گیا ہے۔ یہ الگ مدعا ہے کہ زندگی جننے والے اعضاء کو شرم سے تشبیہ دے کر تعصب کو ہوا دی جاتی ہے۔ مگر گفتگو کا مدار یہاں مجرمانہ طور پر خفیہ عکس بندیاں ہیں جو اسپتالوں میں ہوتی ہیں یا مریضہ کی بیماری سے فائدہ اٹھانے والے کم ظرف ہیں جو مریضہ کی بیماری میں بھی موقع ضائع کرنے سے گریز نہیں کرتے۔

عائشہ جو ایک استاد ہیں، بتاتی ہیں کہ ان کی بہت عزیز سہیلی نہایت تکلیف میں تھیں۔ اچانک سے دوپہر میں گردے کے درد نے اس کی جان ہلکان کر دی۔ درد کی شدت ایسی تھی کہ اسپتال جاتے ہوئے بس اس کی آہیں نکلتی تھیں اور اسپتال پہنچتے پہنچتے گال آنسوؤں سے تر ہو چکے تھے۔ مرد نرس نے درد سے کراہتی مریضہ کو ٹیکہ تو لگا دیا مگر مریضہ کے درد کی شدت اس قدر بڑھتی جا رہی تھی کہ نیم بے ہوشی میں بھی آسکے آنسو بہتے رہے۔ عائشہ دوا کی غرض سے دو قدم کمرے سے باہر کیاگئی، واپس آکر دیکھتی ہے کہ مرد نرس اسکی سہیلی کی مدہوشی میں درد سے بہتے آنسو پونچھ رہا ہے جبکہ مریضہ کو دنیا کی کوئی خبر نہ تھی۔ وہ مرد نرس بے ہوش مریضہ کی اجازت بنا آنسو صاف کرنے کے سوا بھی بہت کچھ کرسکتا تھا۔

نیلم بھی استاد ہیں اور اپنا قصہ سناتی ہیں کہ ایک شب ان کی طبیعت اس قدر بگڑی کہ اسپتال لے جانا۔پڑذ۔ درد سے کراہتی نیلم کے والد کو طبیب نے پنے پاس بلایا۔ کمرے کا دروازہ کھلا تھا مگر نیلم کی تکلیف سے آنکھیں تلک کھلنے سے عاری تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ مرد نرس ان کو ایک پرچی لینے پر اسرار کئے جا رہا تھا، چندیائی آنکھوں سے نیلم دیکھتی ہیں کہ پرچی کسی دوا یا ٹیکے کی نہیں، بلکہ سامنے کھڑے مسیحا کے فون نمبر کی ہے۔ حضرت مصر تھے کہ نیم بے ہوش مریضہ کسی طرح ایک مکمل اجنبی آدمی کا رابطہ نمبر لے لے۔

یہ گمان ذہن کے ہر گوشے سے نکال دیجئے کہ ہمیں کسی اجنبی کے رابطہ نمبر کی کوئی ضرورت ہوتی ہے نہ ہی ہمیں کوئی آرزو۔ یہ باتیں فیس بک پر توہین پر مبنی مزاحیہ خاکوں کی حد تک ہی سچ ہیں، حقیقت میں خواتین کو رابطہ نمبروں سے رتی برابر غرض نہیں ہوتی۔ بھلا یہ عام حقیقت پر مبنی زندگی ہے یا نوے کی دہائی کی کوئی میوزک ویڈیو؟

فرحت کے ابا کا آپریشن ہوا تھا، فرحت جو کہ سترہ سالہ بچی تھی، بضد تھی کہ بیمار باپ کے ساتھ اسپتال میں رات قیام کرے گی۔ رات کے یہی کوئی ایک بجے کا وقت ہوگا جب اس کے ابا کو ڈاکٹر کی ضرورت پیش آئی۔ فرحت، ابا کے کہنے پر ڈاکٹر کو لینے گئی۔ ڈاکٹر صاحب جو ایک بڑی عمر کے معزز اور معتبر شخصیت اور عہدے کے مالک تھے، فرحت سے خوش گپیوں میں محو ہونے کی جستجو میں تھے۔ اس سے اس کا نام پوچھتے ہیں، عمر پوچھتے ہیں، کیا کرتی ہو، کیا پڑھتی ہو دریافت کرنے میں مگن تھے اور نہایت خوش لہجے میں فرحت سے ذاتی نوعیت کے غیر محفوظ سوال کرتے رہے جبکہ فرحت معزز اور عمر رسیدہ ڈاکٹر صاحب کی نیت بھانپ گئی اور موقع دیکھ کر فوراً سے چلتی بنی۔ کسی کی خوش خلاق گفتگو کب کس کے لئے نامساعد اور نامناسب شکل اختیار کر سکتی ہے، گفتگو کرنے والا خوب جانتا ہے۔ فرحت کہتی ہے کہ اس وقت جب وہ فوراً سے باہر آئی، اس کے ہاتھ پیر پھول چکے تھے اور بدن کانپ رہا تھا۔ یہ کہانیاں ہیں ان کی جو کچھ ہوش میں تھیں۔ یہ آپ پر منحصر ہے کہ اندازہ لگائیں جو بے ہوش ہوتی ہیں، ان کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا جاتا ہوگا مگر نہیں اس ملک کی عورتیں سڑکوں پر مارچ کر کے یہاں کا نظام اخلاق بگاڑتی ہیں۔

اس بیماری کا علاج یہ نہیں ہے کہ آئندہ جب کوئی عورت بیمار ہو تو اس کو تڑپنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔ عموماً حل یہی تلاش کیا جاتا ہے کہ عورتوں کے خلاف جنسی تشدد ہو تو گھر میں رہیں، باہر جائیں ہی کیوں؟ گھر میں تشدد ہو تو گھر کے ایک خاص کونے یا زنان خانے میں رہیں۔ بھلا کوئی ان سے پوچھے یہاں کونسے امراء ہی صرف بستے ہیں جن کے آشیانے س قدر وسیع و عریض ہیں کہ گھر میں صنفی تقسیم کر کے رکھی جائے؟ وہ عورتیں کہاں جائیں جن کے کوئی گھر ہی نہیں؟ وہ جو “غیر قانونی” اراضی پر اپنی جھگیاں ڈالے رہتی ہیں؟ کیا غرباء کی جھگیوں میں بھی زنان خانے کھڑے کئے جاسکتے ہیں؟ گھر کا ایسا کونا بھی بتائیں جہاں محرم چچا، تایا، ماموں، بھائی یہاں تک کہ باپ کی آمد پر پابندی ہوتی ہے؟ سوچ نہیں بدلنی، اخلاقیات، شعور اور منطق نہیں درست کرنی، پس تمام حدود کی بوچھاڑ کرنی ہے اور بھی فقط خواتین اور بچیوں پر۔ ڈاکٹروں اور مرد نرسوں کے ہاتھوں جنسی تشدد اور ہراسگی کا نشانہ بننے والی خواتین کو کیا کرنا چاہئے؟ خواتین طبیب اور تیمار داروں سے علاج کرانا چاہیئے؟ بالکل مگر ساتھ ساتھ حسرت لئے ساتھی مرد طبیبوں اور نرسوں کے خواتین کے خلاف رویوں کو سدھارنے کی اتنی ہی اشد ضرورت ہے جس سے خواتین مسیحا محفوظ رہ سکیں اور خواتین مریضائیں۔

اس کا علاج یہ ہے کہ اس وبا پر شعور اور اگہی سے قابو پایا جائے۔ جہاں سمجھ اور درست سوچ کی ویکسین اثر انداز نہ ہو، وہاں بہتر سزا و جزا کا چھڑکاؤ کر کے خواتین اور بچوں کے لئے راہیں پاک کی جائیں۔ وبا پھیلانے والوں کا نام لیا جائے، ان کی بیخ کنی کی جائے اور کام کرنے کی جگہوں میں خواتین کی تعداد کا بڑھاؤ لازم اور ممکن بنانے کے لئے تعلیم اور بچاؤ ممکن بنا کر معاشرے کو اس بیماری سے محفوظ رکھا جائے۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد