معاشرتی ہم آہنگی

5 منٹ میں پڑھیں

تحریر: سعدیہ عندلیب Page(/authors/sadia-andlib.md) کی تصویر

یہ حقیقت ہے کہ کہ آج کا معاشرہ اپنے حقیقی معنی بھول کر بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر لیں اور اپنی اخلاقیات بلند کر لیں تو ہم اپنا معاشرہ بدل سکتے ہیں ۔ کسی پر تشدد کرنا یا غیر اخلاقی حرکت کرنا نامناسبب اور قابل مذمت ہے ۔

معاشرتی ہم آہنگی

کسی بھی معاشرے کی بنیاد کچھ اہم عناصر پر مشتمل ہوتی ہے جن میں سے اخلاقیات اور عدم برداشت دو ایسے اجزا ہیں جو اس سماج میں ریڑھ کی ہڈی جیسا ہی کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن بہت افسوس کے ساتھ میں آج یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ آج کے دور میں یہ دونوں عناصر اس معاشرے کا حصہ نہیں ہیں۔ اس کے پیچھے کی وجوہات بھی لامحدود ہیں۔ جیسے انا اور اکڑ اس کی ترویج کرتے ہیں ۔ یہ ایک گھمبیر مسئلہ ہے جب ایسی خصوصیات کسی معاشرے سے رخصت ہو جائیں تو تشدد، ظلم جیسے عوامل جنم لیتے ہیں جو کہ قوم کو ناکامی اور تباہی کے گہرے اور تاریک پاتال میں دھکیل دیتی ہے ۔ آج کل لوگوں میں بالکل بھی برداشت کا مادہ نہیں ہے ۔ سوشل میڈیا بھی ایسی ہزاروں خبروں سے بھرا پڑا ہے۔ جیسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر آگ بگولہ ہو کر خونی رشتے قتل کر دیے جاتے ہیں اور بعدازاں پوری عمر پچھتاوے میں گزاری جاتی ہے۔ کچھ واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جیسے کچھ دیر پہلے کی بات ہے کہ باپ نے اپنی ہی بیٹی کو محض اس لیے مار ڈالا کہ وہ گول روٹی نہ بنا سکی۔ جبکہ دوسری طرف بیوی کو قتل کر دیا گیا کیونکہ وہ لڈو میں جیت گئی تھی۔ ہم یہ تک بھول چکے ہیں کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ راستے سے گزرتے ہوئے جب بھی کہیں ہنگامہ ہوتا دیکھا یہی پرکھنے کو ملا کہ کسی چھوٹی سی بات پر ڈنڈوں، گھونسوں اور تھپڑوں کا استعمال معمولی سی بات ہے۔ جبکہ اسی صورت حال کو مثبت رویے سے نبٹنے کے لیے صرف خوش خلقی کے دو بول اگر بول دے جائیں تو نہ تو تھپڑوں، گھونسوں کی ضرورت پڑے اور نہ تو قتل و غارت جیسے غیر معمولی واقعات روز بروز منظر عام پر آئیں ۔ یقین مانیں اگر ہم اپنے لہجے اور الفاظ بدل کر دیکھیں تو بڑے بڑے سخت معاملات محبت اور تعاون سے حل کئے جا سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ الفاظ سے کیا ہوا وار گہرے زخم رکھتا ہے اور یہ سب الفاظ ہمیں پوری زندگی وحشت زدہ رکھتے ہیں ۔ ہمارے سماج میں مہذب لوگ جو کہ اسلام کی اشاعت کرتے ہیں غلط صحیح کی تقریق سے باخوبی آشنا بھی ہیں لیکن جب کبھی ایسا معاملہ انھیں در پیش ہو تو ان کی اخلاقیات بھی گھاس چرنے چلی جاتی ہے۔ یہ معاشی دوعملی کیوں؟ مگر سوال یہ ہے کہ اس دوعملی کی وجہ کیا ہے ۔
اس کی وجہ عوام پر مسلسل بڑھتا ہوا دباؤ ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا شخص مشین کی طرح چلنا چاہتا ہے ۔ ہر کوئی دوسرے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے، ناکامی کا خوف رکھتا ہے اور اگر کوئی زیادہ کامیاب ہو جائے تو ان کی سوچ مدھم پڑ جاتی ہے اور منفی سوچیں آنا شروع ہوجاتی ہیں جن سے قطعی طور پر انسان حسد اور جلن کا شکار ہوتا ہے اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ خیر انسان یہ بھول جاتا ہے کہ کوئی خدا بھی ہے جس نے ہر ایک شخص کو مختلف طریقے سے نوازنے کا وعدہ کیا ہے لیکن فطری طور پر انسان کبھی موازنہ کرنا نہیں چھوڑتا۔ لفظ( accommodation ) سے آپ باخوبی آشنا ہونگے اگر ہم اس کو اپنی زندگی میں لائیں اور صرف اپنی خوشی کے علاوہ دوسروں کی خوشی کا بھی خیال کریں تو حقیقی دنیا میں کافی بدلاو لایا جا سکتا ہے۔ خیر سچی بات یہ ہے کہ ہم لوگ اس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں کڑوی باتیں جن سے شخصی دل آزاری ہو، ہم بے جھجھک ایسے الفاظ کا چناؤ بھی کر لیتے ہیں اور ان کو اگلے کے منہ پر جھونک کر تسکین محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب اگر چند میٹھے بول بولنے پڑیں تو ہم خود کو جکڑ لیتے ہیں ۔ آج کا سماج بھی ایسا ہو چکا ہے کہ اگر پر خلوص رہا بھی جائے تو اس خلوص کو منہ پہ مار دیا جاتا ہے۔ آج کا انسان پیار ومحبت کا لائق ہی کہاں ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر بندہ خود کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کےلئے جھگڑ رہا ہے۔ جبکہ اپنے نکتے کو لے کر چلنا اور ساتھ ساتھ اگر اس کی درستگی کا موقع ملے تو مضائقہ نہیں ہے مگر لوگ اس کو ناجانے انا کا مسئلہ کیوں بنا لیتے ہیں ۔ ماہرین عمرانیات کا کہنا ہے کہ آج کل معاشرے کے نوّے فی صد مسائل کی جڑ عدم رواداری ہے۔ صبر و تحمل، ملن ساری اور خندہ پیشانی جیسے اوصاف ہمارے درمیان سے رخصت ہوچکے ہیں۔ آج اگر کوئی ہمیں ایک بات کہے تو ہم اسے چار باتیں سناتے ہیں، پتھر کا جواب اینٹ سے نہ دینے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ذرا سی بات پر ہوش و حواس سے بیگانہ ہوکر مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کہ آج کا معاشرہ اپنے حقیقی معنی بھول کر بالکل کھوکھلا ہو چکا ہے۔ اگر ہم اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر لیں اور اپنی اخلاقیات بلند کر لیں تو ہم اپنا معاشرہ بدل سکتے ہیں ۔ کسی پر تشدد کرنا یا غیر اخلاقی حرکت کرنا نامناسبب اور قابل مذمت ہے ۔ لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ تشدد اور عدم برداشت جیسے رویوں سے اپنی گردنیں چھڑائ جائیں تاکہ معاشرہ خوشگوار ہو سکے۔

سعدیہ عندلیب سعدیہ عندلیب کی تصویر

فارمن کرسچیئن کالج یونیورسٹی لاہور میں بی ایس آنرز کی طالبہ ہیں۔ سماجی’ ثقافتی’ انفرادی اور معاشرتی عنوانات پر تخلیقی و تنقیدی انداز سے لکھنے پر مہارت رکھتی ہیں۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ان کے پسندیدہ لکھاری ہیں۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد