محمد علی جناح: لنکنز ان سے ماڑی پور تک

8 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

ایک روز کرنل الہی بخش نے راکھ کی تشتری میں چار استعمال شدہ سیگریٹ دیکھے۔ علی نے طبیب کی آنکھیں پڑھی تو استراحت کئے بنا بولے: "کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ دھواں نہ بھروں تو سیگریٹ نقصان دہ نہیں ہوگا؟" طبیب کو بھی علی پہلے جیسے لاجواب کرنے والے علی معلوم ہوئے جو کہ بیماری کے باعث کچھ چپ سے ہوگئے تھے۔

محمد علی جناح: لنکنز ان سے ماڑی پور تک

وہ سولہ سال کا لڑکا تھا، جو اپنی ماں کی آرزو مکمل کرنے کی خاطر پنیلی گاؤں کی ایک چودہ سالہ لڑکی سے بیاہ کر رہا تھا۔ اس کو تو والد کے دوست فریڈرک لے کرافٹ کی منشاء کے مطابق اب انگلستان جا کر پڑھنا لکھنا تھا۔ گاؤں بھر میں جشن ہوا کہ پونجا صاحب گھر کی پہلی شادی ہے وہ بھی سن کے سب سے بڑے بیٹے موحمدملی کی۔

موحمدلی نے سنہ اٹھارہ سو پچانوے میں لنکنز ان کونسل میں تبدیلئ نام کی درخواست دیتے ہوئے اپنا نام موحمدعلی جناحبھائی سے محمد علی جناح کر لیا۔ اٹھارہ سو تیرانوے کو فروری کے مہینے میں اپنی ماں اور نئی نویلی چاند سی دلہن ایمی بائی کو خدا حافظ کہا۔ یہ ایسی رخصت اور الوداع تھا کہ دوبارہ علی نے اپنی ماں کو دیکھا نہ دلہن کو۔ دونوں اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔ ہاں جاتے ہوئے ماں مٹھی بائی کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسوؤں کے بے شمار موتی تھے جن کو دیکھ کر علی نے ماں سے کہا تھا کہ وہ دیکھیں گی جب ان کا بیٹا وطن لوٹے گا تو بڑا آدمی ہوگا جس پر سارا ملک فخر کرے گا۔

محمد علی انگلستانی معاشرت اور سیاست میں زور پکڑنے والی آزاد خیالی، جمہوریت، دستور شناسی سے بے حد متاثر ہوتا ہے اور سوچتا ہے کہ یہ سب سوچ اور منطق ہندوستان کے لوگوں میں کیوں نہیں ہے؟ محمد علی کو شیکسپئیر کے رومیو کا کردار نبھانے کی آرزو پیدا ہوتی ہے جو چاہتا ہے کہ وہ یہ کردار ڈی وک کے عالیشاں تھیٹر میں پیش کرے۔ اس کو ابھی تک کسی سے محبت نہیں ہوئی۔ اس محبت کے ہو جانے کو ابھی تقریباً بیس سال باقی تھے۔ خوش لباس، خوب صورت اور دل کش شخصیت کا مالک نوجوان علی بڑے انہماک سے انگلستان کے ایوان عام میں ہونے والی پر جوش اور ذی شعور تقریر سن رہا ہے۔

منظر بدلتا ہے، تقریباً پچاس سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس نے ایک الگ ملک تک بنا ڈالا ہے۔ آدھی دہائی میں ہونے والی تبدیلیوں نے علی کی شخصیت، سوچ، تخیلات اور صحت پر بہت سے منفرد اور دل سوز اثرات مرتب کئے ہیں۔ علی نے اپنی محبت بھی خود ہاتھوں سے بمبئی مسلم قبرستان میں دفنائی ہے،تو بہت سے ساتھی کھو دیئے ہیں۔ بہت سوں نے دھوکہ اور فریب دے کر علی کی سوچ کا حصار وسیع بھی کر دیا ہے۔ نیز یہ کہ محمد علی کو دنیا کی سب خبر ہے۔ مگر گرمی کی شدت کچھ زیادہ ہو رہی ہے۔ دوپہر کی خاموشی میں تپتے سوج کی نڈر کرنوں میں کہیں سے دو تین مکھیاں ادھر کو آگئیں ہیں۔ محمد علی کے ہاتھ بے جان سے معلوم ہوتے ہیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب ہندوستان میں تحریک خلافت کا بڑا چرچا تھا۔علی کو یہ تحریک بھاتی نہیں تھی۔ جب سے اس میں کانگریسیوں کا میل ملاپ ہوا جو ماضی قریب میں علی کو فریب سے آشنا کروا چکے تھے، علی بد ذن سا ہوگیا تھا۔ اس نے تحریک کے لئے برجوش ہوتے نوجوانوں کو تنبیہہ کر دی کہ وہ اس سے دور رہیں۔ جوں جوں وقت بڑھتا جا رہا تھا، علی شائد آتے وقت کو بھی دیکھ رہا تھا۔ علی کو تو پروا تھی اپنے جیسے لوگوں کی، اس کو رتی برابر فرق نہ پڑتا تھا کہ کوئی اس کو برطانوی سامراج کا نمائندہ کہے یا غدار۔

فاطمہ کے ہمراہ کمرے میں ایک فوجی ڈاکٹر داخل ہوتا ہے۔ علی جو پلنگ پر دراز تھے نے اٹھتے ہوئے ڈاکٹر کے چہرے کے تاثرات پڑھنا شروع کر دیئے۔ اسی اثناء میں ایک کرسی سرکاتے ہوئے، علی نے ڈاکٹر سے اس کے سفر کا احوال دریافت کیا۔ ڈاکٹر بھی نشت دراز ہوا تو ساتھ ہی علی سے ان کی خیریت اور علاج بارے سوالات پوچھنا شروع کر دیئے۔ “مجھے کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ماسوائے معدے کے مسئلے کے، جس کی وجہ کام کا دباؤ ہے فقط۔ میں نے چالیس سال مسلسل چودہ گھنٹے کام کیا ہے۔ " علی نے جواباً کہا۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے کھانسی کی شدت گھناؤنی ہو جاتی ہے۔ ہاں کوئٹہ کے ڈاکٹروں نے پنسیلئین لوزیگیز لکھ کر دی ہے جو خاصی مفید ثابت ہوئی ہے۔

لاہور سے آئے کرنل الہی بخش کو خدشہ تھا کہ علی کو پھیپھڑوں کا مرض لاحق ہوسکتا ہے مگر مریض مصر تھا کہ اس کو معدے کا مرض ہے۔ ڈاکٹر نے کچھ بھوک بڑھانے کی دوائیں تو تجویز کی مگر علی کی چھوٹی بہن فاطی مطمئین نہ تھیں۔

علی، اپنی امید سے بیوی کے ہمراہ انگلستان کو روانہ ہوا جس کو پہلی جنگ عظیم کے دوران اور بعد ازاں حجاز مقدس کو صلیبیوں کے ممکنہ تعصب سے پاک رکھنے کا فرض سونپا گیا تھا۔ ورسائلز معاہدے میں ہندوستان کی نمائندگی میں کسی مسلمان کے ذمہ نہ تھی جب ہی علی کو بھی اجازت نہ مل سکی۔ اس دوران چودہ پندرہ اگست کی درمیانی شب علی کی پہلی اولاد نے جنم لیا اور ٹھیک اٹھائیس سال بعد چودہ اگست کی شب علی کی دوسری اور آخری اولاد نے جنم لیا۔ زیارت میں سانس کی بیماری میں مبتلا ایک روز علی اپنی چھوٹی بہن فاطی کو بتاتے ہیں کہ اب ان کو جینے میں خاصا لگاؤ نہیں رہا، جتنا جلد ہو سکتا ہے ان کو جانا چاہیئے۔

“اب اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ میں رہوں یا نہ رہوں”۔ علی کی آنکھیں طبیب کو بتاتے بھیگ چکی تھیں۔ علی کو جینے کی غرض نہیں رہی تھی۔ کوئی مریض جب جینے کی آرزو چھوڑ دے، پھر کوئی دوا نہیں جو اس کو بہتر کرسکے۔ ستمبر کے آغاز سے ہی، علی کو نمونیا، ٹی بی اور پھیپڑوں کا سرطان تشخیص ہوچکا تھا۔ علی نے گزشتہ دس برس میں اوسطاً دن کے پچاس کاروان سگریٹ نوش کئے تھے۔ ان کی تکلیف سیگریٹ اور سگار سلگانے سے نہیں، مسلسل غلط تشخیص اور کام کی وجہ سے زور پکڑتی گئی۔

علی جو صرف چائے، کافی اور پانی پر زندہ تھے، آرزو بھری کہ دن کا ایک سیگریٹ تو عنایت کیا جائے جو کہ ایک سے دو ہوگئے۔ طبیب نے اس شرط پر اجازت دی کہ سگریٹ کا دھواں اندر نہیں بھریں گے۔ پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا علی کو کوئی دوا بہتر تو نہ کرسکتی تھی مگر ایک بیمار کے لئے دو گھڑی خوشی بہت اہمیت کی حامل تھی۔

انگریز کو ہندوستان کے مستقبل کی کچھ یوں فکر لاحق تھی کہ آئندہ اس ملک کا آئین اور نظام حکومت کا رخ کیا اور کیسا ہوگا۔ مسلمانوں کے جداگانہ انتخاب کی حمایت علی کے نظریے کے لئے اتنا اہمیت اختیار کرچکا تھا کہ اس کی مخالفت اور امتیازی رویے کو دیکھتے ہوئے علی نے اپنے پرانے ساتھی اور مچانوں کو خیر آباد کہہ دیا۔ یہ وہی تو جداگانہ انتخاب تھے جن کی دلیل کی بدولت انگریزوں کو یقیں دلایا تھا کہ وہ ایک الگ ملک بنا سکتے ہیں۔

علی کا وزن اگست کے آواخر تک اسی پاؤنڈ تک گر چکا تھا۔ انہوں نے ایک روز ڈاکٹر سے حلوہ پوری کھانے کی خواہش ظاہر کی، جس پر طبیب فکر مند ہوگیا، آیا اتنا بھاری کھانا ہضم ہو پائے گا یا نہیں مگر فاطی نے اپنے ہاتھوں سے بھائی کو بڑے چاہ سے حلوہ پوری کھلائی۔ اس کے بعد علی نے چائے، پانی اور کافی پر ہی گزر بسر کیا۔ ایک روز کرنل الہی بخش نے راکھ کی تشتری میں چار استعمال شدہ سیگریٹ دیکھے۔ علی نے طبیب کی آنکھیں پڑھی تو استراحت کئے بنا بولے: “کیا آپ نے نہیں کہا تھا کہ دھواں نہ بھروں تو سیگریٹ نقصان دہ نہیں ہوگا؟” طبیب کو بھی علی پہلے جیسے لاجواب کرنے والے علی معلوم ہوئے جو کہ بیماری کے باعث کچھ چپ سے ہوگئے تھے۔

ناگپور کانگریسی جلسے میں چودہ ہزار پانچ سو کا مجمع علی کے خلاف نعرے بازی کر رہا تھا، جب جناح نے کانگریسی مچان کو مسکراتے ہوئے احتجاجی طور پر الوداع کیا۔ وہ جان چکے تھے کہ امتیازی سیاست مسلمانوں کے کام آنے والی نہیں۔

علی کو زیارت سے کراچی لے جایا جا رہا تھا جبکہ ان کی آرزو تھی کہ وہ اپنے قدموں پر چل کر گورنر جنرل ہاؤس جائیں۔ اس روز علی کا وزن ستر پاؤنڈ تھا۔ دوپہر کے دو بج رہے تھے جب کوئٹہ ہوائی اڈے پر وی کنگ کیبن جہاز میں موجود پاک فضائیہ کے طیارے میں موجود ہوابازوں اور ائیر مینز نے سلام حرمت و عقیدت پیش کیا۔ طیارہ چار بج کر پندرہ منٹ پر ماڑی پور ہوائی اڈے پر پہنچا جبکہ فوجی ایمبولینس کا سرکاری رہائیش گاہ جاتے ہوئے چار سے پانچ میل سفر طے کرنے کے بعد انجن جام ہوگیا۔

چمن داس کے ہمراہ بمبئی مسلم قبرستان میں علی اپنی محبت رتی کی موت پر بہت افسردہ تھے جو بہت خاموشی سے تیار ہوتی قبر کے پاس تشریف فرما تھے۔ سب س قریبی رشتے کی بابت جب رتی کے بے جان بدن پر مٹی ڈالنے کا موقع آیا تو علی ہاتھوں میں مٹی تھامے کسی بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے۔ وہ واحد دن تھا جب پہلی بار علی نے اپنے اندر موجود مضبوط انسان کو دھوکا دیا تھا۔

ایمبولینس ایک سنسان شاہراہ پر کھڑی تھی۔ علی کے ہاتھوں میں بیماری باعث اتنی سکت بھی نہ تھی کہ چہرے پر بیٹھنے والی مکھیوں کو اڑا سکتے۔ ان کی بہن فاطی اور سسٹر ڈونہم نے مکھیوں کو اڑایا جبکہ دور ایک مہاجر کیمپ آباد تھا جہاں کے واسی جن کے لئے علی الگ وطن کی تگ و دو میں اس مقام تک آپہنچا تھا اور جو علی کی ایک پکار پر اپنا وطن چھوڑ کر وہاں تھے۔ ان کو علم نہ تھا کہ بے بس ایمبولینس میں ان کا قائد پہیوں کے چالو ہونے کا منتظر تھا۔آس پاس سے کچھ گاڑیاں اور ٹرک ہارن بجاتے گزر گئے۔

اس روز شام میں علی دو گھنٹے سوئے۔ فاطی کمرے میں داخل ہوئیں، دیکھا کہ بھائی نے آخری بار آنکھیں کھولی اور آخری بار ہی بند کردی۔ شب کے دس بج کر اڑتالیس منٹ پر طبیبوں نے ان کی موت کا وقت محفوظ کیا اور ان کے جسد پر سر تا پا سفید چادر اوڑھا دی۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد