عورت کہاں محفوظ ہے !

5 منٹ میں پڑھیں

تحریر: ملک محمد یامین

جو لوگ یہ کہتے ہیں لباس مسئلہ ہے تو وہ تین سال کی معصوم بچیوں اور بچوں سے زیادتی کا کیا جواز پیش کرتے ہیں؟

عورت کہاں محفوظ ہے !

نام نہاد ریاست مدینہ کے دعویدار کو کوئی جا کر بتائے کہ دریائے فرات کنارے پیاسے کتے کی جان بچا لی ہو تو سڑک کنارے غیر محفوظ عورتوں کی حفاظت کا بھی سامان کر دے کیوں کہ ریاست مدینہ کے مومنین عورتوں اور بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ساتھ ہی نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ کر کے ان کے ذہنوں میں بھرے اس خناس کو ختم کرے جس کے تحت وہ ریپ جیسے جرم کا دفاع کرتے ہوئے متاثرہ فریق کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور کسی مذہب کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہیں.

وہ مومنین جو مذہب کے نام پر قتل و غارت کے بازار گرم کرتے ہیں‘ شہروں کی ناکہ بندی کرتے ہیں اور مذہب کی ناموس پر جان قربان کرنے کے واسطے لوگوں کی جانوں کے درپے رہتے ہیں وہ انسانیت کی اس توہین پر لب سی کر بیٹھے ہیں. ساتھ مصنفِ اعلٰی کو کوئی بتائے کہ اسکول ٹیچرز کی اخلاقی داروغہ گیری اور ان کے لیے ڈریسنگ کوڈ جاری کرنے کا عمل مکمل ہو گیا ہو تو پاکستان میں عورتوں اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پر نوٹس لیا جائے اور اس عفریت کے شکنجے سے انہیں رہا کرایا جائے۔

پاکستان عورتوں اور بچوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں سے ایک ہے اور جس شرح سے عورتوں اور بچوں کے خلاف جرائم بڑھ رہے ہیں کوئ بعید نہیں مستقبل قریب میں پاکستان کا اس فہرست میں سب پر سبقت لے جائے گا۔ سیکشوئلی فرسٹریٹڈ (Sexually Frustrated) مریضوں کے ہجوم سے عورتیں اور بچے کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں گھر، سڑک، دفتر، اسکول ہو یا مسجد و مدرسہ حتی کے قبروں میں بھی نہیں لیکن جب عورت کا سوال اٹھتا ہے تو سب سے پہلا حملہ مذہب کی لٹھ لے کر کیا جاتا ہے۔ وہ تمام لوگ جو عورت مارچ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے نہیں تھکتے وہ شیر خوار بچوں سے لے کر قبر سے عورتوں کی لاشیں نکال کر ان سے جنسی عمل کرنے جیسے واقعات اور غیرت کے نام پر قتل سمیت عورت کے خلاف ہر جرم پر ہونٹ سی لیتے ہیں۔ جب معاشرہ ان سے سوال کرتا ہے تو آئیں بائیں شائیں کی دلیلیں دیتے دکھائی دیتے ہیں۔

کل موٹروے پر ایک عورت کے ساتھ پیش آنے واقعے پر کچھ لوگ اسلامی تعلیمات کی گٹھڑی سر پر اٹھائے پھر رہے ہیں لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ پاکستان میں گھروں کے اندر باپ کی جانب سے اپنی سگی بیٹیوں اور بھائیوں کی جانب سے سگی بہنوں سے زبردستی جنسی زیادتی کے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں۔ کتنے ہی ایسے کیسز رپورٹ نہیں کیے جاتے۔ کتنوں کو خاندان اور گھر کی عزت (حالانکہ کونسی عزت؟) کی خاطر دبا دیا جاتا ہے۔ کتنی ہی بہنوں اور بیٹیوں کے گلے گھونٹ دیے جاتے ہیں۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں لباس مسئلہ ہے تو وہ تین سال کی معصوم بچیوں اور بچوں سے زیادتی کا کیا جواز پیش کرتے ہیں؟ چلو یہ بھی مان لیا کہ وہ بھی بازاروں میں پھرتے اور مسجدوں مدرسوں کے مولویوں کے بے تاب جنسی جذبات کو بے قابو کر دیتے ہیں لیکن قبر میں پڑی لاش آپ کے جذبات کو کیسے بھڑکاتی ہے؟ یہ کس عہد قدیم کی جہالت ہے جو ہمارے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے؟

کچھ لوگ اتنے شدت پسند ہوتے ہیں کہ جن کے نزدیک ہر مسئلے کا حل لوگوں کی گردنیں اڑانا اور پھانسی دینا ہوتا ہے لہذا ہر ایسے واقعے پر اذیت ناک سزاؤں کا مطالبہ کرتے ساتھ ہی اسلامی نظام کے نفاذ کی باتیں سنائی دیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ کا مذہب آپ کو بہتر انسان بنا سکتا ہے پھر یہ واقعات کیسے رونما ہوتے ہیں۔ چلو عام آدمی کو چھوڑیں۔ مگر مسجدوں اور مدرسوں میں منظم طریقے سے بچوں کا جو جنسی استحصال ہوتا ہے اسے دیکھ کرتو یہی لگتا ہے کہ یہ قابل عمل نہیں ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ آپ مطلق العنان حکمران ضیاء الحق کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔

عورتوں کے خلاف جرائم کی بنیادی جڑ پدر شاہی ہے جس میں عورت کو بطور ایک سیکس ٹول کے دیکھا جاتا ہے۔ وہ کسی کی ملکیت ہوتی ہے جس کے جذبات خواہشات عرض یہ کہ ہر عمل کسی اور کی مرضی کے تابع ہوتا ہے، عورت کو بطور انسان گردانا نہیں جاتا۔

اس برائی کی جڑ وہ فرسودہ روایات اور تعلیمات ہیں جن کے مطابق مرد عورت سے برتر ہے۔ یہ ایک واہمہ ہے جس نے صدیوں سے استحصالی نظام کو تقویت بخشی ہے۔ وہ معاشرہ ہے جس میں عورت کو مال، پٹاخہ اور پتہ نہیں کیسے کیسے القابات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی مرضی و منشاء کے خلاف کم عمری میں شادی کر کے اس کے جسم پر کسی اور کو اختیار دیا جاتا ہے۔ وہ سوچ ہے جس کے مطابق عورت کا وجود مرد کی تسکین کے لیے بنایا گیا ہے اس لیے اس سے گھر سے ہی امتیازی سلوک کر کے ایسے جرائم کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ وہ رویہ ہے جس کے تحت ریپ پر لطیفے بنائے جاتے ہیں، راہ چلتی عورتوں پر فقرے کسے جاتے ہیں اور پرہجوم جگہوں پر ان کے جسم پر ہاتھ پھیرے جاتے ہیں۔ وہ ذہنی پسماندگی ہے جس کے تحت دوسری کی تضحیک کرنے کے لیے اس کی ماں اور بہن کو پرتشدد ریپ کرنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔

ملک محمد یامین

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد