سر سلامت رہیں ٹوپیاں بہتیری

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

صدف، اس استحصالی نظام میں بدقسمتی سے پیدا ہونے والی عورت تھی، جس کی ذرا برابر کوئی رائے تھی نا امنگ کی اہمیت کہ آیا وہ کیا چاہتی ہے؟ پہلے اس کی پیدائش پر ہی اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ جوں جوں وہ پروان چڑھتی ہے، اس کو بس آس پاس سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ اس معاشرے میں عورت ہونے کے ناطے اس کی زندگی کے پہلے اور آخری مقاصد صرف شادی اور اطاعت ہیں۔

سر سلامت رہیں ٹوپیاں بہتیری

صدف، جس کی عمر پچیس سال تھی بچپن سے ماموں ذاد کے نام مانگی ہوئی تھی۔ ماموں ذاد پڑھنے کے لئے آسٹریلیا گیااورایک آسٹریلوی لڑکی سے شادی کرلی۔ یہاں صدف پر تو جو پہاڑ ٹوٹا سو ٹوٹا مگر ماموں ذاداور ماموں جان کی کم ظرفی تو یہ تھی کہ اس بات پر قائم تھے کہ صدف ابھی بھی ان کے گھر کی منگ ہے۔ خاندان میں سبکی نہ ہو،اس لئے صدف کی بیوہ ماں کو مجبور کیا جاتا رہا کہ رشتہ وہی توڑے تاکہ کل کو خاندان والے یہ بات نہ کریں کہ ماموں نے یتیم بھانجی کا رشتہ تمام کیا۔

بہن کو اختیار دیا کہ آیا وہ خود منع کردیں یا بیٹی کی شادی ماموں کے گھر کریں اس شخص سے جو پہلے ہی پسند کی شادی کرچکا ہے اور عمر بھر پہلی بیوی کے ہمراہ آسٹریلیا رہے گا اور صدف ان کی بہو بن کر پاکستان میں رہے۔ ماموں ذاد واضح بتا چکا تھا کہ وہ اپنی آسٹریلیوی بیوی کو چاہتا ہے اور اسی کے ساتھ رہے گا۔ ہاں صدف کی ماں اور باپ کی جائیداد میں حصہ لینے کی غرض اور بہن کے سامنے بھائی کی لاج رکھنے کے لئے صدف سے شادی کر لے گا اور وقتاً فوقتاً ایک آدھ اولاد بھی پیدا کروا لیا کرے گا تاکہ پاکستان میں اس کے گھر کوئی وارث ہو۔ خاندان بھر کے بڑوں کو اس فارمولے پر کوئی اعتراض نہ ہوا کہ عمر بھر صدف اپنے شوہر جو کسی اور کا ہے کی راہ تکے یا اس کے بچے باپ کی غیر موجودگی میں پرورش پائیں۔ انگریزی میں اس کو ڈی ہیومنائزیشن کہتے ہیں جس کے لئے ہمارے یہاں خاص لفظ ہی نہیں کیونکہ ہمارے یہاں ایسے اطوار ڈی ہیومن ہی نہیں۔

صدف، اس استحصالی نظام میں بدقسمتی سے پیدا ہونے والی عورت تھی، جس کی ذرا برابر کوئی رائے تھی نا امنگ کی اہمیت کہ آیا وہ کیا چاہتی ہے؟ پہلے اس کی پیدائش پر ہی اس کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ جوں جوں وہ پروان چڑھتی ہے، اس کو بس آس پاس سے ایک ہی بات سننے کو ملتی ہے کہ اس معاشرے میں عورت ہونے کے ناطے اس کی زندگی کے پہلے اور آخری مقاصد صرف شادی اور اطاعت ہیں۔ اس کو قدم قدم پراس کی ماموں ذاد سے نسبت یاد دلائی جاتی ہے کہیں آگے بڑھنے کا کوئی سپنا نہ سجا لے۔ اگلے پچیس سال تک دل میں جس بت کی پوجا کرتی آئی ہے، جس کے ساتھ زںدگی کا ہر لمحہ گزارنے کا خواب دیکھتی ہے، جس کے ہونے پر عبادتیں کرتی آئی ہے، جو اس کا تاج اور لباس بتایا گیا ہے، جس کے بنا زندگی کا کوئی مرام ہی نہیں، وہ جنہوں نے اس کو ایسی خواہش کرنے اور خواب دیکھنے پر سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تجبر کیا، آج آکر بتلاتے ہیں کہ اس کے خوابوں کا شہزادہ کسی اور کو چاہتا ہے اور اسی کا ہوگیا ہے۔ صدف نیم پاگل سی ہوگئی ہے۔ وہ بولتی ہے نہ کھاتی ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد اس نظام اور سماج کے تحت ماموں کے بیٹے کی “عزت” بن کر اس کے آنگن میں اپنی جان پرکھیل کر ڈھیروں پھول کھلانے تھے۔ مگر اس کے تو ایسے افسانوی خواب بھی اتنے زور سے عرش سے فرش پر گرے ہیں کہ ٹکرے اکھٹے بھی نہیں کئے جاسکتے۔ ان روایات نے لاکھوں جانوں کی طرح ایک اور جان لے لی ہے۔ صدف زندہ ہو کر بھی مردہ ہے۔

بھائی، اپنی ناک کی خاطر بہن کو خاندان بھر میں رسوا کرنے پر تلا ہے۔ بھائی نہیں چاہتا کہ وہ تسلیم کرے کہ اس کے بیٹے نے کسی کو پسند کرکے صدف سے منکر ہوا ہے۔ بھائی ابھی چاہتا ہے کہ کردار پراگندہ ہو تو اس کی یتیم بھانجی کا جس نے ماموں کے بیٹے کے سوا کسی کو سوچا بھی نہیں۔ بھائی کی خواہش ہے کہ لوگ باتیں کریں تو اس کی دو دہائیوں سے بیوہ بہن پر کریں۔

ماموں کا بیٹا اتنا محقر ہے جو اپنی چاہ سے ایک عورت کو اپنانے کا دم تو بھر رہا ہےمگر وفا اس کے ساتھ بھی کرنے کو تیار نہیں۔ وہ اب بھی اپنی بیوی کو دھوکے میں رکھ کر صدف سے شادی کرنے کی بھیک پھینک رہا ہے کہ باپ پر سوال نہ آئے، خاندان والے اس کو کوئی طعنہ نہ دیں۔ وہ اب بھی چاہتا ہے کہ صدف کے حصے کی دکانیں اس کے نام لگ جائیں۔ وہ اب بھی بضد ہے کہ ایک بار نکاح کر لیا تو صرف پاکستان میں اولاد پیدا کروائے گا اور واپس اصلی بیوی کے پاس ہمیشہ کے لئے آسڑیلیا ہی رہے گا۔

ممانی جان خاندان کے دیگر بزرگوں کے ذریعے صدف کی ماں پر دباؤ ڈلوا رہی ہیں کہ وہ ہر صورت رشتے سے انکار نہ کریں کیونکہ ان کی بیٹی کا کردار گندہ ہوگا، کوئی اس سے شادی نہیں کرے گا۔ ویسے بھی جس لڑکی کی منگنی ٹوٹے یا طلاق ہو، وہ لڑکی تھوڑی نہ رہتی ہے۔ ممانی جان کو جب سے ان کے اکلوتے نے واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ وہ ہرگز اپنی (سیاہ فام) بیوی کو نہیں چھوڑے گا، ان کو خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ ان کے پوتے پوتیاں سیاہ فام پیدا ہونگے۔ اس لئے وہ صدف کو قربانی کا بکرا بنا کر اپنی خاندانی لڑی میں گورے گندمی رنگت کے پوتے پوتیاں چاہتی ہیں کیونکہ جو گورا نہ ہو وہ انسان بھلا کب ہوتا ہے؟

مختصراً، صدف کے اطراف بے پناہ خدا ہیں جو اپنی طاقت کے شاہکار اس پر آزما رہے ہیں اور عورت ہے کہ اس کی کوئی سن نہیں رہا کیونکہ عورتوں کی وقعت ہی کیا ہے؟ لوگوں کو ابھی بھی یقین ہے کہ صدف میں کوئی نقص ہے جبھی پچیس سال کا رشتہ ٹوٹنے کو ہے۔ لوگ اب بھی صدف کے منگیتر کو مبارکباد دے رہے ہیں کہ وہ مرد ہی کیا جو ایک عورت کرے۔ وہ اب بھی کہہ رہے ہیں کہ صدف کی اداسی اور بات بات پر رونا ناٹک ہے۔ کئی بزرگ فخریہ کہتے ہیں کہ عورت ٹوپی ہوتی ہے، مرد کا سر سلامت رہے، ٹوپیاں بتہیری۔

یہ کوئی انہونی کہانی ہے نہ ہی خود سے گھڑہی ہوئی ہے۔ یہ یہاں روز ہوتا ہے، روزانہ کئی صدف جیتے جی مرتی ہیں، کئی ماموں زاد اپنی پہلی بیویوں کو چھوڑ کر دوسری عورتوں کو اپنانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، کئی بھائی بہنوں کو شرمسار کرنے سے باز نہیں آتے، کئی عورتیں پسند کے جنس اور رنگ کی اولاد پیدا کرتے کرتے لحد میں اتاری جاتی ہیں مگر یہ سب پھر بھی نہیں رکتا۔ ظلم ہے کہ ہر روز ایک نئے روایتی اور من گھڑت عزت کے جواز کے ساتھ دوبارہ اپنی اصلی صورت میں پیدا ہوتا ہے۔ افسوس ہے ان لوگوں کی سوچ اور فکر پر جن کے نزدیک دوسری تیسری شادی کوئی مذہبی فریضہ ہے یا مذاق، جن کے قریب عورت کم عقل ہے، ماتم ہے ان خواتین پر جو طاقت کی اترن پہنتی ہیں۔ ملال ہے اس انا اور حرمت پر جہاں عورت سے عورت کی زندگی بارے پوچھا نہ جائے، اس کی خواہشوں کو تسلیم نہ کیا جائےصرف اس لئے کہ آپ کے بزرگ استحصال کرتے آئے ہیں اور آپ کو آج بھی اس پر ناز ہے۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد