خواجہ سرا بھی انسان ہیں

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: انیلہ ارشد Page(/authors/انیلہ-ارشد.md) کی تصویر

انسان ہی سے جینے کا حق چھین کر کونسی انسانیت کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے۔ کسی کو اس بات پر ہراساں کرنا کہ وہ ہم میں سے ہی نہیں‘ یہ اختیار نہ تو خدا کی طرف سے ودیعت کردہ ہے اور نہ ہی معاشرتی قوانین میں اس کی گنجائش موجود ہے۔

خواجہ سرا بھی انسان ہیں

قدرت کی تخلیق کردہ کائنات مختلف رنگ لیے ہوئے ہے۔ یہ رنگ زمین و آسمان پر بکھرے ہوئےہیں۔ زمین کی خوبصورتی اسکے سینے پر جڑے پہاڑ’ دامن پر تیرتے دریا’ سرسبزو شاداب درخت اور ہریالے میدانوں کی وجہ سے ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ روئے زمین پر قدرت کی تخلیق کا سب سے بڑا شاہکار انسان ھے۔ اس انسان کے کئی روپ ہیں جو عموما دو ہی سمجھے جاتے ہیں مرد اور عورت کی شکل میں ۔ مگر اس کا تیسرا روپ ہم بھول جاتے ہیں جو تیسری جنس کی شکل مخنث کی صورت میں ھے۔ اسے ہم عرف زبان میں خواجہ سرا کے نام سے پہنچانتے ہیں۔ یہ ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں اور ہر علاقہ و ملک میں ان کی معقول تعداد نظر آتی ھے۔ مگر بد قسمتی سے مرد و عورت کے حقوق کی تو عموما بات کی جاتی ھے مگر ان کی نہیں جو نہ مرد ہیں نہ عورت؛ مگر انسان ضرور ہیں۔ ایک تو وہ قدرت کی طرف سے مرد یا عورت کی خصوصیات سے محروم ہوتے ہیں تو دوسرا معاشرہ انہیں خوداعتنا نہیں سمجھتا۔ یوں لگتا ھے کہ زندکی گزرانے کے تمام دروازے ان پر بند کر دیے گئے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں جانوروں، پرندوں کے حقوق پر بات کی جاتی ہے مگر خواجہ سرا کے بارے میں اجتماعی طور پر کوئی حقوق یاد نہیں کروائے جاتے حتی کہ جمیع اکثریت ان کا ذکر کرنا بھی معیوب سمجھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا حصہ نہیں ہیں؟ یہ سوال ہمارے اذہان پر جمی گرد کو کریدتا ہے۔ وہ بھی انسان ہیں جو دل رکھتے ہیں۔ ان کے بھی جذبات و احساسات ہیں۔

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

وہ بھی اس خدا کی مخلوق ہیں جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ اتنی نفرت کیوں؟

اسلام کے پیروکار ہونے کے باوجود ہم خواجہ سرا کو قبول نہیں کرتے ان پر طرح طرح کے ظلم کرتے ہیں اور وہ ہمارے ظلم کو برداشت کرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے ہم تخلیق کرنے والے کو بھول جاتے ہیں۔ کیا ہم تخلیق کرنے والے کا مذاق نہیں اڑاتے؟ ہم انہیں معاشرے کے دھتکارے ہوؤں کے طور پر برتتے ہیں اور انسانیت کے تمام تقاضوں کا پامال کرتے ہیں۔ صد حیف کہ ہمیں خود سے گھن نہیں آتی۔

میری آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ لاہور کی برکت مارکیٹ میں ایک خواجہ سرا بھیک مانگ رہا تھا۔ وہاں کچھ اوباش لڑکےاسکا مزاق اڑانے لگے اور طرح طرح کے فقرات کسنے لگے۔ (یہ بھی شرمناک حقیقت ہے کہ خواجہ سراؤں کی تضحیک میں ہماری نوجوان نسل کا کوئی ثانی نہیں ہے) ان میں سے دو لڑکے آگے بڑھے اور اسے چھونے کی کوشش کرنے لگے۔ اس وقت میں نے خواجہ سرا کی آنکھوں میں تکلیف کے آثار دیکھے جس کا اظہار آنسوؤں کی صورت میں کیا گیا۔ اس کے باوجود خواجہ سرا کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکلا اور چہرے پر مسکراہٹ قائم رہی۔ ایذا رسانی کی کوئی کسر چھوڑی نہیں گئی حالانکہ آپ اندازہ کریں یہ معاشرے سے بے دخل مخلوق پہلے ہی کس قدر ذہنی اذیت سے گزر رہی ہوتی ہے تو اس پر مصیبت یہ کہ ان کا مذاق اڑانا‘ ٹھٹھہ کرنا اور زبانی و جسمانی طور پر ہراساں کرنا؛ نجانے کتنے ہی ایسے ظلم ہیں جو ان پر کرتے انسانیت تک کا احساس نہیں رہتا۔ دیوار سے لگا کر فخر محسوس کرنے والو ! کبھی خود کو ایسی جگہ تصور کر کے دیکھو‘ رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔

المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں انہیں فحاشی کا استعارہ سمجھا جاتا ہے ۔اگر خدا چاہے تو آنے والے لمحات میں ہمارے گھروں میں بھی ان کی پیدائش ہو سکتی ہے۔کیا ہم نے سوچا ہے کہ اس وقت کیا کریں گے؟ انہیں بھی دھتکار دیا جائے گا؟ ہمارے دلوں میں خوف خدا کیوں نہیں ہے؟ کیا سانس لینے کا حق صرف اسے حاصل ہے جو دو اقسام کے جنس میں ہو؟ ہمیں روز محشر ہمیں خدا کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔ اس طرح کی تمام باتیں میرے دل و دماغ میں گردش کرتی ہیں جس سے میرے اندر خوف طاری رہتا ہے اور احساس ندامت ہوتی ہے۔

خواجہ سرا آج کے دور میں پیدا نہیں ہوئے بلکہ ماضی میں بھی ان کی پیدائش ہوتی رہی ہیں تب انہیں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مغلیہ دور میں خواجہ سراؤں کی دو قسمیں تھیں ۔ ایک ایسے خواجہ سرا جنہیں محلوں کے اندر بھی آنے کی اجازت ہوتی تھی اس لیے انھیں ’صندلی یا محلی‘ کہا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری قسم کے خواجہ سرا کو دربار کے باہر خدمات پر معمور کیا جاتا تھا اس لیے انھیں ’درباری‘ کہا جاتا تھا۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر آج کے دور میں خواجہ سرا کام کی غرض سے بھی باہر جائیں تو انھیں ہم قابل نفرت سمجھتے ہیں۔ ہمارے ضمیر اس قدر سو چکے ہیں کہ ہماری ہی طرح کے لوگ انہیں رات گزارنے کی پیش کش کرتے ہیں۔ انہیں جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ ممنوعہ کاموں کے وقت ہمارا ایمان کیوں نہیں جاگتا؟ ہمیں خدا اور اسکے رسولﷺ کے احکامات کیوں یاد نہیں آتے؟ ہمیں انسانیت کی روایتیں اور قوانین کیوں یاد نہیں آتے؟ ہم گندگی کی دلدل میں اس قدر پھنس گئے ہیں کہ صحیح اور غلط کی پہچان تک بھول گئے ہیں۔ ہم برائی کے راستے میں اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ اچھائی کا راستہ تک یاد نہیں۔

آج کے دور میں خواجہ سرا کھل کے سانس نہیں لے سکتے۔ مر مر کے جیتے ہیں۔ ان کے پیچھے درد ناک کہانیاں ہیں جن کا تذکرہ کرنا بھی ہم گوارا نہیں کرتے۔ ہم ان کے دکھ درد کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہیں۔ معاشرے میں انہیں کمزور سمجھا جاتا ھے۔ انہیں زندگی گزارنے کے لیے کس قرب سے گزرنا پڑتا ھے اسکا اندازہ ہمیں معلوم نہیں کیونکہ ہم دوسروں کے دکھ کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ان کے حوصلے اس قدر بلند ہیں کہ اس قرب کے باوجود وہ زندگی کی مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہیں حالانکہ ہم اس کرب سے گزریں تو ممکن نہیں کہ سکت بھی باقی رہے۔

ہمارے میڈیا کے پاس اس موضوع کے علاوہ بہت سے موضوعات ہیں جن پر وہ ہر طرح کی بات کر سکتا ہے۔ کسی کو بے نقاب کر سکتا ہے، کسی کوعزت و احترام کے ساتھ ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ نیکی کی تبلیغ کرنے والے بھی ہمیں اس نیکی کی طرف راغب نہیں کرتے۔ کوئی بھی بتانا پسند نہیں کرتا کہ خواجہ سرا کے بھی حقوق ہیں جو ہم جیسی ہی مخلوق کو ادا کرنے ہیں۔ ہمیں اپنی پڑھی لکھی نوجوان نسل کو اس امر کی طرف توجہ دلانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ سماجی و سیاسی طور پر ان کے حقوق پر بات کر سکیں۔

خواجہ سراؤں کو حقوق دلانے کے لیے ہمیں پہلے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا اس کے بعد معاشرے میں ان کا مقام پیدا کرنا ہوگا کہ وہ بھی عزت و احترام کے ساتھ اسی معاشرے میں زندگی گزار سکیں تاکہ وہ اپنی الگ پہچان اور رتبہ بنانے میں کامیاب ہو سکیں۔ جینے کا حق دینا اولین ترجیح ہے جس کے بعد تعلیم و روزگار کے مواقع بلا امتیاز فراہم کیے جائیں۔

کالی کالی قسمت ان کی نیلے پیلے خواب

اتنے رنگوں میں اپنی پہچان بھی ایک عذاب

انیلہ ارشد انیلہ ارشد کی تصویر

اردو زبان و ادب میں بی ایس آنرز مکمل کر چکی ہیں۔ سنجیدہ موضوعات پہ لکھنے کو ترجیح دیتی ہیں جن سے سماج کے شعوری خلا کو پُر کرنا ممکن ہو سکے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد