جانوروں کی جبری کھیتی باڑی اور عید پر بھوکے غریب

5 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

تشدد اور خون بہانے کی ترغیب تو وہیں سے ملنا شروع ہوجاتی ہے جب ہم انہماک سے جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے کے لئے چوباروں، چھتوں اور کھڑکیوں کی جانب لپکتے ہیں۔ ایک جانور کو اپنی جاں بھی اتنی پیاری ہے جتنی ہمیں۔

جانوروں کی جبری کھیتی باڑی اور عید پر بھوکے غریب

عید قرباں کی آمد آمد ہے۔ گلیوں محلوں، چوراہوں میں جا بجا قربانی کے جانور بندھے اور مچلتے ہی نظر آتے ہیں۔ گائے، بیل، بکرے، اونٹ، دنبے ہر ہی گلی میں اپنی زندگی کے دن گنتے دکھیں گے۔ قربانی مذہبی فریضہ ہے جس کی توثیق یہ ہے کہ اس روز غریبوں کو وہ غذا کھانے کو میسر آتی ہے جو سارا سال ان کو نصیب نہیں ہو پاتی۔ قربانی کے گوشت کے تین حصص بنائے جاتے ہیں جن میں غرباء کا ایک حصہ ہے۔ دنیا بھر میں مسلمان ایک دلیل دیتے نظرآتے ہیں کہ اس روز کی قربانی روزانہ لاکھوں ذبح ہونے والے کے ایف سی اور میکڈونلڈز کے جانوروں سے ایسے بہتر ہے کہ اس روز ضرورت مندوں میں گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ عید قرباں پر دس گائے، تیس بکرے، پندرہ اونٹ، چالیس دنبے قربان کرنے والے صاحب حیثیت افراد سال بھر میں اس دولت سے غرباءاور سفید پوش افراد کی کفالت کیوں نہیں کرتے؟ یہ سوال وہی پرانا، دہرایا ہوا لبرل سا ہے مگر سال بھر میں ضرورت مندوں کی امداد چالیس دنبوں کی دولت سے کیوں نہیں کی جاتی؟

اگر قربانی کا گوشت واقع میں غریبوں کے لئے ہوتا ہے تو گھروں میں عید کی آمد سے پہلے گہرے سرد خانوں یعنی ڈیپ فریزر کی تنگی کیوں پیش آنا شروع ہو جاتی ہے؟ جی بے شک غریبوں میں تقسیم بھی کیا جاتا ہے مگر ہم غریبوں میں دو وقت کا گوشت ہی کیوں تقسیم کرتے ہیں؟اس گوشت کے ساتھ پاؤ ٹماٹر، کلو پیاز،درجن بھر لیموں، مصالحہ جات کیوں نہیں دیتے؟ اب اتنا گوشت بھی نہیں دیتے کے غریب کی اولاد چمچوں سے کھائے اور پیٹ بھر جائے۔ تو دوبارہ وہی لبرلوں والا سوال ہوا کہ گوشت کے ساتھ پانچ کلو آٹا یا تین کلو باسمتی چاول کیوں نہیں دیتے؟ گھی اور تیل کا ذکر کرنا بھول ہی گئی جس کو گرم کر کے لذیذ پکوان تیار کئے جاتے ہیں۔ تو طے ہوا کہ قربانی کا جذبہ اس قدر ہی صادق ہے تو اب سے صرف ایک لفافہ گوشت نہیں ساتھ میں گھی، ٹماٹر، پیاز، ادرک، لہسن، لیموں، نمک مرچ اور اجناس بھی دیں تو آپ کے مؤقف کی تائد ہوگی کہ سال میں ایک روز ہی سہی مگر بھوک اور افلاس سے مرا ہوا پیٹ بھر کر عمدہ اور ذائقہ دار پکوان تناول کر سکتا ہے۔اگرایسا نہیں تو وہ ٹویٹس شئیر کرنا ترک کر دیں جس میں کہا جاتا ہے کہ ہم غریبوں کو گوشت دیتے ہیں اور کے ایف سی میکڈونلڈز والےامراءکو برگر کھلاتے ہیں۔

احساسات تذبذب کا شکار تب ہوتے ہیں جب معلوم پڑتا ہے کہ قربانی کے لئے لائے گئے جانور بھی “جانوروں” کی طرح پلے بڑھے ہیں۔ لائیو اسٹاک انڈسٹری کی بد نما شکل جانوروں کی کھیتی باڑی ہے۔ جانوروں کی کھیتی باڑی، یہ گائے بیل پر طنز ہر گز نہیں۔ اب کیا ہے نا کہ ادب میں الفاظ ہی ایسے ہیں۔ مگر جانوروں کی کھیتی باڑی نہیں اس کو جانوروں پر جبر کہا جاتا ہے۔ پہلے جانوروں کی مشقت پر مبنی کھیتی باڑی ہوا کرتی تھی اور اب جانوروں کی الگ سے جبری کھیتی باڑی ہوتی ہے۔ عید پر دس کروڑ جانور قربان ہوتے ہیں۔ دس کروڑ جو کبھی پاکستان کی کل آبادی تھی، دس کروڑ معنی پنجاب کی کل آبادی۔ اگر ہر سال دس کروڑ انسان قربان ہوں تو کیسے انسانوں کی آبادی گھٹنا شروع ہوگی؟ روزانہ کی تعداد میں انسانی شوق اور ذائقے کے لئے دو سو ملین جانور زمین پر جس میں آبی حیات ملا کر تین سو کروڑ شامل ہیں جانور قربان ہوتے ہیں۔اب سوچئے کہ بیل گائے بکرے دنبے اونٹ کس درخت اور کس بیل پراگتے ہیں جواتنی تعداد میں موجود بھی ہیں، مر بھی رہےاور ختم نہیں ہو رہے جبکہ دنیا بھر میں طرح طرح کے چرند پرند کمیاب ہوکر ختم ہو رہے ہیں؟ روزمرہ کے استعمال کے گوشت دینے والے جانور کاشت ہوتے ہیں، سہی سنا ہے مگر زمیں میں نہیں فارمز میں۔ ایک بھینس سال میں ایک بار ہی بچھڑا جنتی ہے۔اسی طرح گائے اور اونٹنی بھی ایک ہی بار حمل سے ہوتی ہے۔ بھیڑاور بکری سال میں دو بار حمل سے ہوسکتی ہیں۔ جانوروں کو زبردستی غیرانسانی طریقوں سے انسیمینیٹ کیا جاتا ہے۔ جس کے باعث اکثر سال میں دو بار اور ہر سال ہی معدہ حمل سے ہوتی ہے۔ جس کے باعث معدہ جانور کی عمر تو گھٹ ہی جاتی ہےاور پیدائش کے فوراً بعد بچھڑوں اور میمنوں کو ماں سے جدا کرکے الگ گوشت اور حمل کے لئے کاشت کیا جاتا ہے۔ان میں کمزور اور لاغر جانوروں کو فوری تلف کرتے ہیں جو فارمز کے اخراجات پر بنا منافع کے بوجھ بن سکتے ہیں۔ علاوہ ازیں، فیکٹریوں میں بلا کی گندگی اور تنگ ماحول میں جانوروں کو رکھا جاتا ہے۔ جو نت نئے وبائی و متعدی بیماریوں کی بودو باش کااچھا موقع فراہم کرتا ہے۔ کانگو وائرس ہو یا کرونا یہ سب جانوروں کی جبری کھیتی باڑی کا ہی شاخسانہ ہیں۔

تشدد اور خون بہانے کی ترغیب تو وہیں سے ملنا شروع ہوجاتی ہے جب ہم انہماک سے جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے کے لئے چوباروں، چھتوں اور کھڑکیوں کی جانب لپکتے ہیں۔ ایک جانور کو اپنی جاں بھی اتنی پیاری ہے جتنی ہمیں۔ رسی چھڑا کر، چھری کی ضرب کھا کر بھی وہ جان بچانے کے لئے بھاگتا ہے۔

فطرت کے خلاف بدسلوکی کے شکار جانوروں کی قربانی جائز ہے یا نہیں جن کے ساتھ پیسہ کمانے کے لئے جبری تخسم ریزی کی جاتی ہے،اس کا فیصلہ آپ کے ایمان اور دین اسلام کے اصل معنی و مفہوم پر ہی مبنی ہے۔ مگر جب تک آپ اس کا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں، غرباء کو گوشت بڑے لفافے میں بمع پیاز ٹماٹر، نمک مرچ اوراجناس کے ساتھ ضرور دیجئے گا۔اس بار محرمالحرام تک ڈیپ فریزر کی بجائے غریب کا پیٹ بھرئیے۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد