تارِ عنکبوت

4 منٹ میں پڑھیں

تحریر: حویرث مغل Page(/authors/hoiris-mughal.md) کی تصویر

زندگی کے سفر میں بہت سے مقام گزر جاتے ہیں جو پھر کبھی نہیں، بلکہ ہرگز نہیں آتے۔ ایسے ہی کچھ لوگ بھی ہوتے ہیں جو لوٹ کر کبھی نہیں آتے مگر کیا ان کی محرومی زندگی سے بیزار کر دیتی ہے۔ ہرگز نہیں۔ زندگی جیئے جانے کا نام ہے۔

تارِ عنکبوت

کیا آپ نے سوچا ! کبھی کبھی دل چاہتا ہے آپ خود کو اتنا مصروف کرلیں کہ آپ اپنی ہی سوچوں سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ مگر ایسا نہیں ہوتا دو دن ، تین دن ، یا پھر زیادہ سے زیادہ ایک ہفتہ… آخر کب تک آپ اپنی ہی سوچوں سے فرار حاصل کرتے رہیں گے؟

آخر تو آپ کو اپنی سوچ کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا ہی ہوتا ہے۔ آخر تو آپ کو بےوجہ کی پریشانی یا ڈپریشن کے لئے منطقی جواب دلائل کے ساتھ ڈھونڈ کر دینا ہی ہوتے ہیں۔

یوں تو دُور سے اور باہر سے چاہے آپ دنیا کے لیے کتنی پرفیکٹ زندگی گزارتے ہوں مگر آپ کس کَرب اور کس اَذیت کا شکار ہوتے ہیں اس سے کسی کو کوئی سروکار نہیں ہوتا آپ کس جنگ کو اپنے اندر کئی سالوں سے لڑ رہے ہیں اور آپ کو وہ جنگ آخری دم تک خود ہی لڑتے رہنا ہوتی ہے۔

کہنے کو سارا شہر شناسائی کا دعویدار ضرور ہوتا ہے مگر کون ہمارا اپنا ہوتا ہے یہ ہم بھی نہیں جانتے اور جب وقت ملنے پر سوچیں تو اپنے ساتھ کسی کو بھی کھڑا نہیں پاتے ۔

زندگی کے سفر میں بہت سے مقام گزر جاتے ہیں جو پھر کبھی نہیں، بلکہ ہرگز نہیں آتے۔

ایسے ہی موسم ہوتے ہیں جو گزر جاتے ہیں اور کچھ لوگ بھی۔ ہاں کچھ لوگ آپ کی زندگی کے سفر میں زیادہ دیر کے لیے آتے ہیں اور کچھ لوگ کم وقت کے لئے آتے ہیں مگر سب لوگ کچھ نہ کچھ ضرور سِکھا کر جاتے ہیں۔ اور کچھ باتیں جن کو دل کافی پہلے قبول کرلیتا ہے مگر دماغ اُس سب کو قبول کرنے میں کافی زیادہ وقت لگا دیتا ہے۔ شاید کبھی کبھی ہم اس حقیقت کو قبول کرنا نہیں چاہتے یا پھر شاید ہم اس حقیقت سے آنکھیں بند کئے رکھنا چاہتے ہیں مگر جو بھی ہو آخر کو قبول تو کرنا ہی ہوتا ہے۔

ہم یہ جانتے بھی ہوتے ہیں کہ چاہے جو شخص بھی ہو اس نے ہم سے دور تو جانا ہی ہوتا ہے۔ چاہے کل ، پرسوں یا پھر آج ۔۔۔۔ اورہمیں ایسا لگتا ہے کہ جیسے زندگی رک جائے گی۔سب تھم جائے گا !

مگر زندگی کی توپہلی شرط ہی زندہ رہنا ہے ۔ کسی کہ ہونے نہ ہونے سے زندگی رک نہیں جاتی ، چلتی رہتی ہے ۔ اور اکثر وہ لوگ جن کو ہم زندگی کے لیے ناگزیر جانتے ہوتے ہیں اچانک بغیر کسی وجہ کے ہم سے دور چلے جاتے ہیں یا پھر دورہو جاتے ہیں۔ زندگی پھر بھی نہیں رکتی ، تھوڑی دُ شوار ضرور لگتی ہے مگر تمام نہیں ہوتی۔

وقت کے ساتھ سب بدل جاتا ہے۔ لوگ بھی… رشتے بھی… احساس بھی… اور کبھی کبھی ہم خود بھی !

کچھ محرکات زندگی میں متوازی چلتے رہتے ہیں۔ مگر کیا وقت کی دھول ہمارے جذبات کو اور احساسات کو بدل دیتی ہے اور پھرہمیں جینے کا اک نیا انداز ملتا ہے….. حالات اور گردش دوراں ہمیں اپنے اندر بے حد مصروف کر لیتے ہیں کہ زندگی کے رنگ ڈھنگ ہی بدلنے لگتے ہیں۔

کبھی کبھی زندگی میں رونما ہونے والے واقعات اور تجربات ہماری سوچ کا زاویہ یکسر بدل کر رکھ دیتے ہیں اور بہت ہی قریبی رشتے سے ملنے والی تکلیف‘ جس کی ہم ہرگز توقع نہیں کر رہے ہوتے مگر وہ تکلیف ہمیں خود ہی تلاش کر لیتی ہے اور ہم تک آن پہنچتی ہے۔ بعض اوقات کسی چیز، مقصد یا جواب کی تلاش بھی ہمیں زندگی بھر بے چین کیے رکھتی ہےاور جب تک حاصل نہ ہو جائےدل کو کسی اور سکون میسر ہی نہیں آتا۔

کچھ کیسسز میں شاید لاحاصل محبت بھی کارفرما ہوتی ہے جو ہماری شخصیت کو تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے۔ کبھی وہ محبت جو سب کچھ لگتی ہوتی ہے ، وہی محبت زندگی کے خالی پن کا باعث بنتی ہے۔

یا پھر آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ ہر تبدیلی کے پیچھے کوئی ایک ایسی طاقت ، کوئی ایسی مصلحت ، اور کوئی ایسا مقصد پوشیدہ ہوتا ہے جو ہماری سمجھ میں اس وقت تک تو نہیں آتا مگر دُھند کے چَھٹ جانے کے بعد سوالوں کے جوابات ، تجربات اور حالات کے اسباب ، زندگی کا مقصد اور حقیقی محبت کا راز… انسان کو ملنے لگتا ہے مگر اس سب میں کچھ وقت تو لگتا ہے!

تو پھر انسان کو کونسی چیز ہے جو واقعی بدل دیتی ہے۔

وقت ؟ زندگی ؟ تجربات ؟تکلیف ؟ محبت ؟ تلاش ؟

یا پھر خدا ؟

حویرث مغل حویرث مغل کی تصویر

مصنف اور تھیٹر اداکار ہیں جو معاشرے کے غیر حساس رویوں کے لئے لکھتے ہیں اور زندگی کے جذباتی حقائق کو اُجاگر کرتے ہیں۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد