بات سمجھنے کی ہے

5 منٹ میں پڑھیں

تحریر: سعدیہ عندلیب Page(/authors/sadia-andlib.md) کی تصویر

میرا جسم میری مرضی سے مراد بھی یہی ہے کہ میرے جسم پہ میری رضامندی کے خلاف کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی کسی قسم کے غیر اخلاقی عمل یا تشدد کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہ بات عورتوں سے ہٹ کر مردوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔

بات سمجھنے کی ہے

ہم توازن اور وقار جیسے الفاظ سے باخوبی آشنا ہیں لیکن پھر بھی کہیں نہ کہیں ان الفاظ کا چناؤ تو کر لیتے ہیں مگر اپنے مطلب کے مفہوم اخذ کرنا بھی جانتے ہیں۔ ابھی لفظ وقار سننے میں شائد مبہم لگے مگر اس سے مراد ہر شخص کی عزت نفس غرض ہے جس کا حقدار بلا تعصب ہر کوئی ہے، جنس کی کوئی قید نہیں۔ کسی کو جنسی ہراساں کرنا بھی اس شخص کے وقار کو ٹھیس پہنچانا ہے جس کے طویل عرصے تک اثرات ہو سکتے ہیں۔ مدعے کی بات یہ ہے کہ ہم کسی عورت کو ہراساں کرنے کے بعد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ “لباس نامناسب تھا تو یہ خود بھی یہی مرغوبیت رکھتی تھی” لیکن اگر کسی مرد کو ہم گولی مار دیں تو اس کا جواز ہمیں یہ رکھنا چاہیے کہ اس نے بلٹ پروف سوٹ نہیں پہنتا تھا تو کیا اس کی بھی یہی چاہت تھی کہ اس کو مار دیا جائے؟ ہم لوگ اس بات پہ متفق کیوں نہیں ہو جاتے کہ ہر بشراپنی مرضی سے زندگی بسر کرنا چاہتا ہے اور اس کے اندر بلاوجہ مداخلت دوسرے کی زندگی اجیرن کر سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اس سے لاکھوں لوگ نفسیاتی مریض بنتے ہیں۔

آج کے دور میں اگر عورت کوئی “نازیبا” حرکت کرتی ہے تو اس کی سر عام تذلیل کی جاتی ہے اور بالآخر عزت کے نام پر قتل کر دینا مناسب سمجھا جاتا ہے۔ یہ انگلیاں صرف عورت پہ اٹھائی جاتی ہیں جبکہ دوسری طرف مرد جو بھی کرے اس پر تو انگلی اٹھتی ہے نہ اسکی کسی قسم کی تذلیل کی جاتی ہے کیونکہ اس تفریق میں توازن بنانا پہاڑ کی چوٹی پہ چڑھنے جیسا مشکل کام لگتا ہے۔ تذلیل تو دوسری طرف، ایسے لوگوں کو داد دی جاتی ہے اور بطور مذاق ان کو اکسایا جاتا ہے۔

جنسی زیادتی ایک ایسا زخم ہے جو کہ آپ کے سامنے، پیچھے، دائیں جانب اور بائیں جانب ہمیشہ تازہ رہتا ہے۔ وقت کی رفتار کے ساتھ اس کا زخم گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ میرا جسم میری مرضی سے مراد بھی یہی ہے کہ میرے جسم پہ میری رضامندی کے خلاف کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی کسی قسم کے غیر اخلاقی عمل یا تشدد کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ یہ بات عورتوں سے ہٹ کر مردوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔عورت کے ہر عمل پر تنقید کرنے والے ناجانے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا کیوں بھول جاتے ہیں؟ یہ معاشرے کے کچھ غیر طبعی رنگ ہیں کہ عورت کے ہر پہننے اوڑھنے پر پابندیاں جیسے قمیض کی لمبائی سے لے کر دوپٹے کی حد مقرر کرنے والے خود گلیوں اور بازاروں میں برہنہ پھرنے کو مردانگی سمجھتے ہیں۔ توازن، برابری، یکسانیت اور ہم قدری جیسے الفاظ کی سازباز کے لئے ہی تو عورت مارچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں دونوں جنسوں کے درمیان ان خصوصیات کا عمل پیرا ہونا بھی بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہی ہے۔

یہ معاشرے کے کچھ غیر طبعی رنگ ہیں کہ عورت کے ہر پہننے اوڑھنے پر پابندیاں جیسے قمیض کی لمبائی سے لے کر دوپٹے کی حد مقرر کرنے والے خود گلیوں اور بازاروں میں برہنہ پھرنے کو مردانگی سمجھتے ہیں۔ توازن، برابری، یکسانیت اور ہم قدری جیسے الفاظ کی سازباز کے لئے ہی تو عورت مارچ کا انعقاد ہوتا ہے لیکن اس معاشرے میں دونوں جنسوں کے درمیان ان خصوصیات کا عمل پیرا ہونا بھی بھینس کے آگے بین بجانے جیسا ہی ہے۔

مردوں اور عورتوں کی تفریق، تہذیب تو چھوڑ دیں اس معاشرے کے کچھ اور گنونے رنگ بھی ہیں۔ جیسے مرد نہ صرف عورتوں کو ہراساں کرتے ہیں بلکہ کم عمر بچے اور بچیاں بھی ان سے محفوظ نہیں ہیں۔زینب قتل کیس سے لے کر ناجانے پہلے کتنے واقعات ہو چکے ہیں جو منظر عام پر آتے ہیں نہ ہی لوگوں کو اتنی آگاہی اور فوقیت حاصل ہے کہ سر عام ملزم کے ساتھ سزا جزا کے معاملات کیے جا سکیں۔ یہ وہ ملک ہے جہاں جزا سزا کے معاملات ذاتی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ جہاں رشوت، چوری، زنا جیسے برائیاں کچھ رقم کے عوض بخش دی جائیں۔

جہاں ہر کام میں ملاوٹ چلتی ہو تو وہاں کوئی بھی اجنبی شخص کسی کو بھی ہراساں کر سکتا ہے چونکہ یہاں گناہ کا معیار عورت کے کپڑے ہیں یا پھر سادہ الفاظ میں عورت ہی ہے کیونکہ ہر بنیاد پہ عورت کو ہی پرکھا جاتا ہے اور یہ سلسلہ نہ جانے کب تک چلتا رہے گا۔ عورت تو پھر عورت ہے جناب سوال یہ ہے کہ ننھنے بچے اور بچیاں مردوں کی حوس کا شکار کیوں بنتے ہیں؟ کیا ہم صرف اس بات پر متفق نہیں ہوسکتے کہ اس طرح کے حادثات کی بنیاد عورت کے نہ تو کپڑے ہیں اور نہ ہی اس کےانداز و افکار بلکہ یہ صرف مرد کا ذاتی عمل ہے جس سے کہ وہ دلی مسرت اور ذاتی تسکین محسوس کرتا ہے۔

یہ سب لکھنے کا مقصد صرف اور صرف اتنا ہے کہ ہر گناہ کا ذمہ دار عورت کو نہ بنایا جائے نہ ہی مرد کو اتنی چھوٹ دی جائے کہ وہ برہنہ گھومے یا اتنی ہمت کر سکے کہ کسی عورت، کم عمر اطفال کو ہراساں کر سکے۔ ہمارے معاشرتی اقدار بدلنے میں دیر ہی کیوں نہ لگے لیکن مثبت سوچ یہ ہے کہ اس طرح کے بد فعل لوگوں کو سزا بھی ملے گی اور ان کے لیے سخت سزائیں بھی بنائی جائیں۔

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

سعدیہ عندلیب سعدیہ عندلیب کی تصویر

فارمن کرسچیئن کالج یونیورسٹی لاہور میں بی ایس آنرز کی طالبہ ہیں۔ سماجی’ ثقافتی’ انفرادی اور معاشرتی عنوانات پر تخلیقی و تنقیدی انداز سے لکھنے پر مہارت رکھتی ہیں۔ اشفاق احمد اور بانو قدسیہ ان کے پسندیدہ لکھاری ہیں۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد