آپ نے مجھے نہیں اپنی بیٹی کو نقصان پہنچایا ہے

8 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

اب میں یہاں یہ کہنے کے لئے ہوں کہ جناب یوہو نے جس نقصان کی جسارت کی وہ مجھے نہیں ہوا۔ مگر جب آپ یہ کسی بھی عورت کے ساتھ کرتے ہیں، آپ خود دوسرے مردوں کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ یہی سب آپ کی بیٹی کے ساتھ کریں۔

 آپ نے مجھے نہیں اپنی بیٹی کو نقصان پہنچایا ہے

الیگزینڈریااکوثیو کورتیذ المعروف اے او سی تیس سالہ بائیں بازو کی ڈیموکریٹس سے متحرک سیاست دان ہیں۔ امریکی کانگریس کے ایوان زریں بنام ہاؤس آف ریپریزینٹیٹوز (House of Representative) کے چودہ کانگریشنل ڈسٹرکٹ نیویارک سے سنہ 2018 میں منتخب ہوئیں۔ ڈیموکریٹس کی سیاست روشن خیال اور امریکہ میں بسنے والی تمام اقوام کو لے کر چلنے کی حوالے سے مشہور ہے۔ خود الیگزینڈریا لاطینی امریکی ہیں۔ چودہ گانگریسی ڈسٹرکٹ میں امریکہ کے دو گنجان آباد علاقے برانز اور کوئینز آتے ہیں جن کی وجہ شہرت وہاں کی غربت اور مختلف نسلوں کا بڑے پیمانے پر موجود ہونا ہے۔ جیسے کراچی میں لیاری،لانڈی اور کورنگی ہیں ویسے نیویارک میں برانز اور کوئینز ہیں۔

2018 کے امریکی کانگریس کے ایوانِ زریں انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں آبائی امریکی بھی منتخب ہو کر آئیں اور ساتھ میں دو مسلمان خواتین جن میں سمالی مہاجر الحان عمر اور فلسطینی امریکی راشدہ طالیب شامل تھیں۔ الیگزینڈریا کورتیذ، راشدہ طالیب، الحان عمر اور سیاہ فام آیانا پریسلے کو سکواڈ فور کا نام دینے والے بھی ڈونلڈ ٹرمپ تھے جس کی بڑی وجوہات میں بائیں بازو کی مزاحمتی سیاست کرنا اور ان خواتین کا مسلمان، لاطینی امریکی،سیاہ فام اور تارک وطن ہونا اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چار منتخب ہونے والی یہ خواتین ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔

ان سب میں الیگزینڈریا کا مقام اور شہرت سب سے جدا ہے۔ اے او سی بڑے بڑے امریکی سی ای اوز کو ایوان میں بلا کر ان کو آئینہ دکھاتی ہیں۔ الیگزینڈریا کی قابلیت، محنت، اعتماد اور حاضر جوابی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔دنیا کی دولت پر براجمان امریکیوں کو اپنی قابلیت اور ایوان زریں کے رکن ہونے کی حیثیت سے چت کرتی نظر آتی ہیں۔ دائیں بازو کے سفید فام قدامت پرست امریکی الیگزینڈریا سے خار کھاتے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے سب سے زیادہ قدامت پرست سفید فام ریپبلکن فلوریڈن نمائندہ ٹیڈ یوہو نے کیپیٹول بلڈنگ کے دہانے پر الیگزینڈریا کورتیذ کے لئے انتہائی نامناسب الفاظ کا استعمال کیا۔ جب خبر سامنے آئی تو ٹیڈ یوہو نے لفظی صفائی کرتے ہوئے کچھ ان الفاظ میں معافی چاہی:

“میں معافی چاہتا ہوں اپنی ہم ایوان جو نیویارک سے نمائندہ ہیں، ہمارے نظریات میں اختلاف ہے جس کا مطلب نہیں کہ ہم کسی کو بے عزت کریں۔ میرے الفاظ جو میں نے نہیں کہے، میڈیا میں جس طرح پیش کۓ گۓ، اگر ان سے دل آزاری ہوئی تو میں معذرت خواں ہوں۔ مگر میں اس لگاؤ اور محبت کے لۓ ہرگز معذرت خواں نہیں ہوں جو مجھے اپنے خدا سے، اپنے خاندان اور ملک سے ہے” ۔

الیگزینڈریا کورتیذ نے گزشتہ روز ایوان زریں میں خطاب کیا جسکا متن یہ تھا:

“ریپریزینٹیٹو ٹیڈ یوہو جن کے ہمراہ ریپریزینٹیٹو راجر ولیم تھے، کیپیٹول عمارت کی سیڑھیوں پر مجھ سے مخاطب ہوئے، انہوں نے میرے چہرے پر انگلی سے اشارہ کر کے مجھے مکروہ، پاگل، بھٹکا ہوااور خطرناک کہا۔ میں نے ٹیڈ یوہو کو جوابا بدلحاظ (rude) کہا اور وہ اس بات پر حیران تھے کہ وہ کیسے بدلحاظ ہیں۔ میں ایوان کے اندر آئی اور ووٹ کیا کیونکہ میرے حلقے کے لوگوں نے مجھے یہاں اسی مقصد سے منتخب کیا ہے کہ میرے اقدام سے ان کے سر پر چھت رہے اور ان کو عذا کی تنگی نہ ہو تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں۔ جب میں باہر آئی وہاں صحافی تھے اور سب کے سامنے ریپریزینٹیٹو یوہو نے مجھے گالی دی۔ یہ الفاظ منتخب رکن یوہو نے ایک منتخب کانگریس رکن کو ہی نہیں کہے جو نیویارک کی چودہ کانگریشنل ڈسٹرکٹ کی نمائندہ ہے بلکہ کانگریس کی ہر خاتون رکن اور س ملک میں موجود ہر عورت کو کہے کیونکہ ہم سب خواتین کو ان حالات سے کسی نہ کسی شکل، طریقے، صورت اور موقع پر گزرنا پڑتا ہے۔

میں واضح کرنا چاہوں گی کہ منتخب رکن کے الفاظ نے مجھے ایذ نہیں دیا کیونکہ میں نے بحیثیت مزدور نوکریاں کی ہیں۔ میں نے نیو یارک جیسے شہر میں ہوٹلز میں ویٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے، میں بسوں میں سفر بھی کیا کرتی تھی اور پیدل بھی آتی جاتی، اسی لئے اس قسم کی زباں میرے لئے انہونی نہیں ہے۔ میں نے ایسے الفاظ جو جناب یوہو اور ان جیسے مرد استعمال کرتے ہیں، بہت بار سنے ہیں، ہراساں بھی کی گئ جب میں ریستورانوں میں کام کرتی تھی۔ میں نے ایسے آدمیوں کو جو ایسی زباں استعمال کرتے تھے بارز سے بھی دھکیلا ہے۔ نیویارک شہر کے سب وے بس میں بہت بار ہراساں کی گئی ہوں، یہ سب نیا نہیں ہے اور یہی اصل مسئلہ ہے جو پرانا نییں ہو رہا۔

جناب یوہو ٹیڈ تنہا نہیں تھے، وہ کندھے سے کندھا ملا کر ریپریزینٹیٹو راجر ولیم کے ساتھ چل رہے تھے۔ یہ واقعہ اتفاقی نہیں ہے، یہ رواج ہے۔اس نظام میں جو طاقت کے بل بوتے پر قائم ہے ایسے لوگوں کو استثناء حاصل ہے، خواتین کے خلاف تشدد اور متشدد زباں کو فروغ دیا جاتا ہے۔ مجھے اپنے ہم منتخب اراکین سے اس ایوان میں ہی ہتک کا سامنا نہیں رہا بلکہ گزشتہ برس (صدر ٹرمپ نے) مجھے واپس جانے کو کہا گیا جیسے میرا امریکہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ فلوریڈا کے گورنر ڈیسینٹس نے جب انہوں نے حلف تک نہیں لیا تھا مجھے ‘یہ جو بھی ہے’ کہہ کر پکارا۔ غیر انسانی رویوں کو پروان چڑھاتی زباں نئی نہیں ہے۔ ایسے واقعات ایک نظم سے متواتر ہو رہے ہیں جو خواتین اور دوسرے لوگوں کی تضحیک پر مبنی ہے۔ اسی لئے میرے لئے یہ الفاظ اتنے تکلیف دہ نہیں تھے۔ مجھے لگا کہ میں آرام سے گھر جاؤں اور بھول جاؤں۔

مگر گزشتہ روز، منتخب رکن یوہو ایوان میں آئے اور اپنے رویے کے لئے مختلف بہانے تلاشنے لگے جو میں جانے نہیں دے سکتی۔ میں اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دے سکتی کہ میری بھتیجیاں جو معصوم بچیاں ہیں، ہزلیات سننے والی خواتین اور اس سے کہیں زیادہ کہ وہ یہ نام نہاد عذر معافی کے طور پر ایوان کے ہاتھوں منظور ہوتا دیکھیں اور غلط بات پر خاموشی کو معذرت خواہانہ طور پر قبول کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں کھڑی ہو کر استحقاق پر سوال کر رہی ہوں۔

مجھے منتخب رکن یوہو کی معافی کی قطعی ضرورت نہیں جبکہ ان کے انداز سے سب واضح تھا۔ مجھے معلوم ہے وہ تب بھی معافی نہیں مانگیں گے جب ان کے پاس موقع ہوگا۔ میں شب بھر بیدار رہ کر اس آدمی سے معافی کا انتظار نہیں کروں گی جس کو عورتوں کو گالی دینے پر کوئی پچھتاوا نہیں۔ میرا اصل مسئلہ ایسے لوگوں کا عورتووں، اپنی بیویوں، بیٹیوں کو ڈھال بنا کر اپنے غلط قدم کو چھپانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ایک بیوی ہے اور دو بیٹیاں۔ میں دو سال چھوٹی ہوں جناب یوہو کی سب سے چھوٹی بیٹی سے! میں بھی کسی کی بیٹی ہوں۔ میرے والد، خوش قسمتی سے آج زندہ نہیں ہیں یہ دیکھنے کے لئے کہ جناب یوہو نے ان کی بیٹی سے کیسا برتاؤ کیا۔ میری والدہ نے ٹی وی پر ایوان میں ہونے والی یہ بد لحاظی ضرور دیکھی ہے اور میں یہاں اس لئے موجود ہوں کہ اپنے والدین کو دکھا سکوں کہ میں ان کہ دختر ہوں اور انہوں نے میری ایسی پرورش نہیں کی کہ میں مردوں کی بدسلوکی کو قبول کروں۔

میں یہاں یہ کہنے کے لئے ہوں کہ جناب یوہو نے جس نقصان کی جسارت کی وہ مجھے نہیں ہوا۔ مگر جب آپ یہ کسی بھی عورت کے ساتھ کرتے ہیں، آپ خود دوسرے مردوں کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ یہی سب آپ کی بیٹی کے ساتھ کریں۔ پریس کے سامنے انہوں نے تمام آدمیوں کو اجازت دی کہ لوگ یہی لغو زباں ان کی بیوی، ان کی بیٹیوں اور ان کے حلقہ احباب کی عورتوں کے ساتھ استعمال کریں اور میں یہاں یہ کہوں گی کہ کسی بھی عورت کے ساتھ ایسا کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ مجھے نہیں پرواہ کے آپ کے کیا نظریات ہیں، یہ اہمیت نہیں رکھتا کہ مجھے کتنااختلاف ہے،مسئلہ ہے کہ لوگوں کو انسان نہیں سمجھا جاتا،میں ایسا کبھی نہیں کروں گی۔ میں ہرگز نہیں چاہوں گی کہ لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہو۔

میرا یہ ماننا نہیں کہ بیٹی ہونے سے کوئی آدمی مہذب اور معقول ہو جاتاہے، بیوی کا ہونا آپ کو اچھا انسان نہیں بناتا۔ لوگوں سے عزت اور احترام سے پیش آنا ایک انسان کو اچھا بناتا ہے۔ جب ایک اچھا انسان غلطی کرے تو دل سے معذرت کرتا ہے ، وہ سلجھاؤ کے لئے کوشش کرتا ہے نہ کہ شہرت اور ووٹ کے حصول کی خاطر تاکہ ہم سب اپنی راہ پر گامزن ہوسکیں۔

آخر میں میں خوشی کا اظہار کرتی ہوں آپ نے دنیا کو دکھایا ہے کہ آپ مقتدر ہوسکتے ہیں اور عورت سے بدتمیزی کرسکتے ہیں۔ آپ بیٹی کے باپ ہونے کے باوجود بھی عورت سے بد لحاظی کرنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ آپ کی بیوی بھی ہو سکتی ہے اور تب بھی آپ عورت سے بدسلوکی کر سکتے ہیں۔ آپ دنیا کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں کسی عورت کے ساتھ برا سلوک نہیں کرسکتا کیونکہ میں بیٹیوں والا ہوں۔ یہ سب اس ملک میں، اس ایوان میں روز ہوتا ہے۔ اس ملک کے بڑے بڑے عہدار فخر سے تسلیم کرتے ہیں کہ انہوں نے عورتوں سے بدسلوکی کی ہے۔”

پاکستان کی سیاست میں سینکڑوں الیگزیندریا کورتیذ درکار ہیں۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد