اس لئے بنا تھا پاکستان؟

6 منٹ میں پڑھیں

تحریر: رابعہ سرفراز چوہدری Page(/authors/rabia-sarfraz.md) کی تصویر

ہر نکتہ بڑھتا بڑھتا وہیں آکر منجمد سا ہو جاتا ہے کہ ایک اشتباہ عمل دوسری جگہ ہو تو وہ ہمارے یہاں درست کیسے ہو سکتا ہے؟

اس لئے بنا تھا پاکستان؟

جب وسط جولائی دو ہزار انیس میں، تین آدمی ایک سولہ سالہ ہندو لڑکی مومل میگھواڑ کے ساتھ جبری زیاتی کر رہے تھے، تب ان کو ادراک تھا کہ دلن جو تڑ گاؤں کی اس غریب اور ہندو لڑکی کا مدعا کسی کے ضمیر پر بھی بوجھ نہ بنے گا۔ تینوں اس دور اندیشی اور درست فہمی میں بجا تھے۔ اجتماعی جبر جنسی کا مقدمہ درج ہونے پر تینوں کو ہی ضمانت پر رہا کر دیا گیا اور آج تک آزاد ہیں، جو کہ اس ملک کا وتیرہ بن چکا ہے۔ جبر جنسی کا یہ انوکھا واقعہ تھا نہ کسی ہندو لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا تشدد کا غیر معمولی حادثہ۔یقین کیجئے یہ روز ہوتا ہے اور بے حساب و کتاب ہوتا ہے۔

تیس ستمبر کی درمیانی شب مومل میگھواڑ نامی ہندو لڑکی نے ہراسانی اور دھمکیوں سے تنگ آکر کنویں میں گر کر خودکشی کر لی ہے۔ زیادتی کے بعد خودکشی کو مبارک عمل قرار دیا جانا ایسا انہونا عمل بھی نہیں ہے۔ آج تک بہت فخر سے بتایا جاتا ہے کہ تقسیم کے وقت لڑکیوں نے عزت لٹنے کے ڈر سے کنووں میں کود کر جانیں دی۔ یہاں ہرگز ان شہداء بارے کوئی ہتک آمیز بات کرنا مقصود نہیں ہے۔ تقسیم کے وقت جس قبیح مرد کے ہاتھ مخالف مذہب کی لڑکی، بچی اور عورت لگی اس نے بھر پور فائدہ اٹھایا۔ عورت تو تقسیم کے وقت بھی مغلوب تھی، عورت آج بھی مغلوب ہے۔ مومل جیسی ہندو، مسلمان لڑکیاں تب بھی زیادتی کا نشانہ بنی اور کنووں میں کودی ۔ تھرپارکر کی سترہ سالہ ہندو، مومل نے صرف اپنی جان نہیں لی، ہم سب کی جان بھی لی ہے۔اس بازگشت کرتے نظریے کی جان بھی لی ہے جس کی خاطر ہزاروں مسلمان لڑکیوں نے اپنی عصمتوں کی قربانی دی۔ وہ سب خواتین دوبارہ سے اپنے مجرموں کے ہاتھوں ریپ ہوئی ہیں، افراد اور نظام کی معذرت نے تقسیم کے وہ لمحے پھر سے زندہ کر دیئے ہیں۔ بلوائیوں کی وحشت سے وہ لڑکیاں دوبارہ سے کنووں اور ندیوں میں کودی ہیں، وہ سب پھر سے مر گئی ہیں۔ ایک ناری مومل ہی نہیں، آپ سب بھی مر گئے ہیں۔

ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ جرائم سے تعصب اور منافرت کو بھی رنگیں لبادوں میں اوڑھا کر بد نیتی چھپا دی جاتی ہے اور پھر گنگناتے ہیں کہ یوں پاکستان بنا تھا۔ اس لئے پاکستان بنا تھا؟ اس نغمے “یوں پاکستان بنا تھا” میں کہانی کے طور پر بتایا جاتا ہے کہ پاکستان سے پہلے مسلمانوں کو کن مصائب کا سامنا تھا۔ کبھی کھیت تو اپنا ہوا کرتا مگر زمیں کسی اور کی تھی، پگڑی اونچی تھی مگر کسی اور کے قدموں تلے تھی، مسلمان چھپ کر سجدے کرتے تھے۔ آج کے تناظر میں یہ اشعار کس قدر طعن آمیز ہیں نا، اغواء ہوتی، مرتی ہندو عیسائی لڑکیوں اور اقلیتی مسالک کے متاثرہ شہریوں کے گھاؤ پر نمک پاشی ہیں۔

میں اس بحث میں نہیں جا رہی کہ ان الفاظ میں کتنی حقیقت ہے یا نہیں لیکن غریب کی زمیں آج بھی اپنی نہیں، یا زمیں تو اس کی اپنی ہو مگر جس کھیت پر وہ اور اس کا سارا خاندان کام کرتا ہے وہ اس کا اپنا نہیں۔ زمیندار قرض کی واپسی کے لئے اس کو دھمکاتا تو ہے ہی ساتھ میں اس کی کھیتوں میں جان لگا کر کام کرتی بیوی پر بھی نظر رکھتا ہے اور غالباً بیٹی کے ساتھ جنسی جرائم کا مرتکب بھی ہوا ہوگا۔ بچے آج بھی بھٹیوں پر تپتی دھوپ میں برہنہ پا اونچی عمارتوں اور عالیشاں گھروں کی ااینٹیں بناتے، سینکتے اور آٹھاتے ہیں۔ قید تو آج بھی ہیں، مغلوب تو اج بھی ہے، جھکے سر تو آج بھی ہیں۔

چھپ کر سجدے کرنے پر مجبور آج بھی اس ملک کے شہری ہیں۔ غیر مسلک مساجد میں ہاتھ باندھ کر نماز بھی تو پڑھتے ہیں۔ امام بارگاہوں پر ویسا ہی پتھراؤ ہوتا ہے جیسے کانگریس راج میں نابلد ٹولہ کسی مسجد پر کیا کرتا ہوگا۔

“رہتے تھے جیسے ایک ڈر میں جب قید ہوئے اپنے گھر میں”

کیا آج لوگ قید نہیں یا بے خوف ہیں؟ نام دیکھ کر پہچان جانے والے کھینچ کر گولی مار کر فرار نہیں ہوجاتے؟ فلاحی اداروں کی دیواروں اور خاص متعصب طبیبوں کے کلینکس پر یہ سطور تحریر نہیں ہوتی کہ اگر “اس” فرقے سے ہو تو مفت علاج نہ ہوگا یا علاج ہی نہ ہوگا؟ فلاں کافر اور جانور کا آنا منع ہے، اس جملے سے کون آگاہ نہیں؟ کیا جنوب مغرب میں شہریوں کی آنکھوں کی بناوٹ دیکھ کر گولیوں سے چھلنی نہیں کیا جاتا؟ یوں بنا تھا پاکستان یا یوں ہی رہے گا پاکستان؟

ہر نکتہ بڑھتا بڑھتا وہیں آکر منجمد سا ہو جاتا ہے کہ ایک اشتباہ عمل دوسری جگہ ہو تو وہ ہمارے یہاں درست کیسے ہو سکتا ہے؟ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف سنگین جرائم تب غلط تھے تو آج غیر مسلم اقلیتوں کے خلاف تشدد کیسے جرم ہونے کی حیثیت کھو جاتا ہیں؟ انسانوں کے خلاف انتہائی نوعیت کے جرائم سے آخر کس نہج تک آنکھیں چرائی جا سکتی ہیں صرف اس لئے کہ ہمارا اور ان کا عقیدہ منفرد ہے؟ اس حد تک متعصب ہونا کیا رات کو آرام سے سونے دے دیتا ہے؟ انسان کا کوئی بھی نظریہ ہو مگر اس جہان کا ایک قانون تو ہے ہی جو دکھ اور سکھ کی بنیادوں پر سمجھا اور پرکھا جاتا ہے۔ میرا نظریہ وہاں ناپید ہوجانا چاہیئے جہاں وہ کسی معصوم کو اذیت دینا شروع کردے۔

“پیروں میں اور کسی کے، تھا شملہ اونچا سر کا”

مومل کا تو شملا بھی اونچا نہ تھا۔ وہ تو اس ملک میں، اس دور میں ہندو لڑکی ہونے کے ناطے پہلے ہی کمزور تھی۔ کیا اس لئے بنا تھا پاکستان کہ اس کے آزاد شہریوں کو ان کے مذہب کے ناطے کمزور سمجھتے ہوئے ان کے جان مال اور عزت پر دھاوا بولا جائے گا اور مجرم وحشی بن کر قانون کی شاخوں سے جھولتے رہیں؟ اس لئے تو نہیں بنا تھا پاکستان۔ شملا اونچا تھا مگر کس کے قدموں میں تھا؟ اگر ایسے بنا تھا پاکستان تو اب کس طرح سے بچا رہے ہیں پاکستان؟ ہندو لڑکیوں کو کنووں میں دھکیل دھکیل کر؟ نہیں، اس لئے نہیں تھا بنا ہمارا پاکستان۔

اس واقعہ کو ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا تھا مگر اس کے وجود پر تین آدمیوں کے ہاتھوں زیادتی کے زخم اب تک موجود تھے، جن کی مرہم شائد نظام ہوسکتا تھا جس نے اس کے قاتلوں کو خود ہاتھ سے ضمانت پر رہا کیا۔ مومل کا شملہ پست اور مجرموں کا سر بلند کیا تاکہ کل کو وہ کسی اور بے کس و لاچار کو کنووں میں کودنے پر مجبور کر سکیں۔ ستر سال پرانی مجبوریوں کو آج کی مجبوریوں سے مستعار لینا شروع کریں، ان ہندو لڑکیوں کی بے کسی پر نغمے تخلیق کریں، جن کے پاس زمیں ہے اپنی نہ کھیت، جن کے آنچل بھی قدموں میں ہیں اور ایماں بھی، جو کھل کر اپنے رب کا نام لیتے ہیں نہ آزاد ہیں۔

غیر انسانی جہتوں کو چھوڑنے کے لئے بنا تھا پاکستان۔ اس لئے بنا تھا جہاں کسی ہندو کو مسلمان اور کسی مسلمان کو دوسرے مسلمان، کسی عورت کو کسی مرد، کسی بااثر سے کمزور کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ کسی کا جو بھی خدا ہو، امام ہو، رات کو سفر کرے یا جس راستے سے کرے، پاکستان کو اس سے کیا لگے؟ پاکستان نے تو سب کو سنبھال کر پیار سے رکھنا تھا، اس لئے ہی بنا تھا نا پاکستان؟ اس لئے بھی نہیں بنا تھا پاکستان کہ ہندوؤں سے تعصب اور امتیاز کے بدلے لئے جائیں جب کے وہ اسی ملک کے شہری ہوں۔

رابعہ سرفراز چوہدری رابعہ سرفراز چوہدری کی تصویر

سیاسیات کی طالبہ ہیں اور بحیثیت مصنفہ سماجی اور ثقافتی غیر منصفانہ اور متشدد تاریخی رویوں پر ادب تخلیق کرنے کی خواہاں ہیں جس میں خواتین پر تشدد کے خلاف آواز بلند کرنا سر فہرست ہے۔

اپنے سماجی روابط میں شائع کریں:

متعلقہ مواد